مدرسہ کو زکوۃ و فطرہ دینے اور اپنی بیٹی شیعوں کے سپرد کرنے والے امام کا حکم
ماہواری فیس وغیرہ لی جاتی ہو، مثلاً ۱۰۰ر بچوں میں دو چار بچے غریب یا یتیم ہوں ان کی کتابوں کا انتظام مدرسہ سے ہی ہے اور فیس وغیرہ بھی معاف ہے اس مدرسہ یا اسکول کا خرچ کمیٹی کے لوگوں سے ماہواری چندہ اور عوام سے بھی وصول چندہ کیا جاتا ہے اور گورنمنٹ سے تعاون کے لئے کوشش کی جارہی ہے اور زکوۃ ، فطرہ اور قربانی کی کھال وغیرہ بھی کوشش کر کے وصول کیا جاتا ہے۔ لہذا امر طلب یہ ہے کہ زکوۃ و فطرہ و قربانی کی کھال وغیرہ صاحب مال کا ایسی جگہ دینے سے فرض واجب ادا ہو جاتا ہے یا نہیں؟ (۲) دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ مسجد کے پیش امام صاحب کے پانچ بچے ہیں، دولڑ کے جن کی عمر ۲۰ رسال اور تین لڑکیاں جن کی عمر ۱۶ / ۷ ارسال ہے، سب کے سب مع بیوی بچوں کے آزاد ہیں، کوئی پابندی شریعت کی نہیں ہے۔ پیش امام صاحب کے دوست یا ملنے والے حضرات اہل تشیع یعنی خارجی یا کھٹل یعنی شیعہ ہیں، ان کے ساتھ اپنی لڑکی جو بالغ ہے،سولہ سترہ سال کی ہے، ان کی سپردگی میں عرصہ دراز سے کر دیا ہے۔ اس لئے کہ کہیں مناسب جگہ شادی کر دیں۔ قریب قریب آٹھ سال کے عرصے سے لڑ کی شیعہ کی سپردگی میں ہے، کبھی کبھی پیش امام صاحب ملنے کے لئے جاتے رہتے ہیں۔ ی حضرات سب کچھ جانتے ہیں لیکن پھر بھی ان کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں۔ مولانا صاحب سے بھی کہا گیا لیکن پھر بھی فجر کی نماز روز ہی پڑھتے ہیں اور دوسرے وقتوں میں بھی جماعت ہو رہی ہے تو بھی جماعت میں شرکت کر لیتے ہیں۔ لہذا امر طلب یہ ہے کہ ایسے عالم اور مقتدی کے لئے شریعت کا حکم کیا نافذ ہوتا ہے؟ فقط بینوا الحق ! لمستفتی: فقیرمحمد ، رات پور، کانپور
الجواب: (1) زکوة و فطرہ کسی مدرسے کو دینے سے ادا نہیں ہوتے بلکہ فقیر مسلم کو دینے سے ادا ہوتے ہیں پھر فقیر بخوشی مدرسه یا مسجد کو دے دے تو حرج نہیں ، چرم قربانی دینی مدارس کو یونہی بے حیلہ دے سکتے ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ (۲) وہ امام (اگر اس پر وہ باتیں جو درج سوال ہوئیں ، شرعاً ثابت ہیں ) سخت گناہ گار مستحق نار دیوث ہے، اس کی اقتدا گناہ اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ۔ غنیہ میں ہے: لوقدموافاسقاياثمون (1) در مختار میں ہے: ،، كل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها “ (۲) اس کی اقتدا کرنے والا عالم ہو خواہ غیر عالم ، گناہ گار ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۴ رذی الحجہ ۱۴۰۱ھ (1) غنية المستملى شرح منیۃ المصلی ، ص ،۵۰۰، سهیل اکیڈمی، لاهور (۲) الدر المختار، ج ۲، ص ۱۴۸ ، ۱۴۷، کتاب الصلوۃ، باب صفة الصلوة، دار الكتب العلمية، بيروت