بینک میں جمع رقم کی زکوۃ ہر سال فرض ہے بینک کا منافع سود نہیں!
محد ومی حضرت علامہ رحمانی میاں صاحب قبلہ دام ظلکم ! السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاته مرسله گرامی نامہ مع رسید دستیاب ہو کر نظر نواز ہوا، آپ نے ماہنامہ اعلیٰ حضرت کی ابتدائے خریداری دسمبر ۱۹۷۲ ء سے مقرر فرمائی ہے حالانکہ دسمبر کا شمارہ روانہ نہیں کیا گیا۔ مجھے خط کا شدید انتظار تھا کیونکہ دسمبر کے شمارہ میں رویت ہلال سے متعلق اہم مضمون موجود ہے اسی ضرورت کے تحت میں نے دسمبر ۱۹۷۲ء سے خریدار ہونے کے لئے لکھا تھا لیکن وہ ماہنامہ دسمبر کا دستیاب نہ ہوا اور خریدار آپ نے دسمبر ہی سے قرار دیا ہے اور ختم خریداری ماہ نومبر ۷۳ ء ہوگی۔ بہر حال عرض کرنے کا مطلب یہ ہے دسمبر کا شمارہ ارسال فرمائیں یا ماہ جنوری ۷۳ ء سے آپ مجھے خریدار نامز دفرما ئیں ۔ امید کہ تسلی بخش جواب سے ضرور نوازیں گے۔ ایک ضروری استفتاء ترسیل خدمت ہے اگر ممکن ہو تو ہوا پسی ڈاک جواب عنایت
بینک میں جمع رقم کی زکوۃ ہر سال فرض ہے بینک کا منافع سود نہیں! محد ومی حضرت علامہ رحمانی میاں صاحب قبلہ دام ظلکم ! السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاته مرسله گرامی نامہ مع رسید دستیاب ہو کر نظر نواز ہوا، آپ نے ماہنامہ اعلیٰ حضرت کی ابتدائے خریداری دسمبر ۱۹۷۲ ء سے مقرر فرمائی ہے حالانکہ دسمبر کا شمارہ روانہ نہیں کیا گیا۔ مجھے خط کا شدید انتظار تھا کیونکہ دسمبر کے شمارہ میں رویت ہلال سے متعلق اہم مضمون موجود ہے اسی ضرورت کے تحت میں نے دسمبر ۱۹۷۲ء سے خریدار ہونے کے لئے لکھا تھا لیکن وہ ماہنامہ دسمبر کا دستیاب نہ ہوا اور خریدار آپ نے دسمبر ہی سے قرار دیا ہے اور ختم خریداری ماہ نومبر ۷۳ ء ہوگی۔ بہر حال عرض کرنے کا مطلب یہ ہے دسمبر کا شمارہ ارسال فرمائیں یا ماہ جنوری ۷۳ ء سے آپ مجھے خریدار نامز دفرما ئیں ۔ امید کہ تسلی بخش جواب سے ضرور نوازیں گے۔ ایک ضروری استفتاء ترسیل خدمت ہے اگر ممکن ہو تو ہوا پسی ڈاک جواب عنایت فرمائیں۔ ورنہ ماہنامہ اعلیٰ حضرت میں مع سوال و جواب شائع فرمادیں۔ عین نوازش ہوگی ! کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ : (1) ایک شخص کا دس ہزار روپیہ ڈاکخانہ یا بینک میں جمع ہے تو اس جمع شدہ رقم کی زکوۃ فرض ہے یا نہیں ؟ اگر ز کوۃ نکالی جائے تو سال میں کتنے روپے ادا کرنے ہوں گے؟ اور یہ رقم چند سال بینک یا ڈاکخانہ میں جمع رہے گی تو کیا ہر سال زکوۃ ادا کرنی ضروری ہے؟ (۲) ڈاکخانہ میں جو رقم محفوظ کی جاتی ہے، اس رقم پر ڈاکخانہ کی طرف سے کچھ روپئے اضافہ شدہ (سودی) روپیہ جو اس شخص کو ملے گا کیا وہ رو پیدا اپنے مصرف میں لاسکتا ہے؟ اگر نہیں تو وہ سودی روپیہ کس مصرف کا ہے؟ بینوا توجروا المستفتی: محمد صدیق، موضع قاضی پور کھنی ضلع سلطان پور الجواب: (1) بلاشبہ وہ روپیہ جو بینک میں جمع ہے اس روپیہ کی زکاۃ ہر سال گزرنے پر فرض ہے۔ کل رقم کا چالیسواں حصہ نکالا جائے ۔ وھو تعالی اعلم (۲) اضافہ شدہ رقم پر زکاۃ نہیں، ڈاکخانہ یا بینک سے جو تم زائد ملتی ہے وہ سود نہیں ، اپنے مصرف میں خرچ کرسکتا ہے۔ ہدایہ میں ہے: لاربا بین المسلم والحربی فی دار الحرب (۱) وهو تعالیٰ اعلم (۱) الهداية ، ج ۲، كتاب البيوع، باب الربو ص ۷۰ مجلس بركات فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۳۰ رذی الحجہ ۱۳۹۱