زکوۃ و فطرہ کا مصرف اور لاؤڈ اسپیکر پر نماز عید کا حکم
کے لئے لاؤڈ اسپیکر خرید لائے ، رمضان میں بجایا اور کہتے ہیں کرایہ پراٹھے گا۔ ہندؤوں کی باراتوں میں کرایہ پر اٹھانا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں بہت رقم آئے گی ، مدرسہ کو فائدہ ہو جائے گا۔ اعتراض کیا کچھ مسلمانوں نے تو کہتے ہیں ہم پوچھ چکے ہیں، تم غلط کہتے ہو۔ اب فطرہ کی رقم تین سو پچاس روپیہ کے قریب آئی تو قرض کو ادا کر دیں گے۔ کیا فطرہ ، زکوۃ اور قربانی وغیرہ کا پیسہ ایسے مدرسوں میں خرچ ہوسکتا ہے یا نہیں؟ (۲) لاؤڈ اسپیکر پر اس سال ہمارے موضع خیر پور و ملکی پور میں نماز عید پڑھائی گئی ، کیا جائز ہے؟ حاجی صاحب نے اعتراض کیا تو کہا کہ دہلی آگرہ وغیرہ میں نماز عید لاؤڈ اسپیکر پر ہوتی ہے، ہوسکتی ہے یا نہیں؟ جواب سے سرفراز فرمائیں ۔ فقط والسلام ! سائل : حاجی علیم اللہ خاں ملکی پور تحصیل تلہر ضلع شاہجہانپور
الجواب: (1) زکوة وفطرہ وعشر صدقات واجبہ کا مصرف فقیر ہے، بلا حیلہ شرعی مدرسہ کے مہتم کو دینا یا مدرسہ کے مصالح میں اس رقم کو صرف کرنا جائز نہیں۔ نہ ایسی صورت میں یہ صدقات واجہ سر سے اتریں گے۔ مدرسہ کو دینا چاہے تو صورت یہ ہے کہ وہ کسی فقیر کو دے کر مالک بنادے پھر اس سے کہے کہ تم اپنی خوشی سے یہ رقم مدرسہ یا مسجد کو دے دو۔ اس طرح زکوۃ وغیرہ سر سے اتر جائے گی اور زکوۃ دہندہ وفقیر دونوں ثواب کے مستحق ہوں گے۔ در مختار میں ہے: "قدمنا ان الحيلة ان يتصدق على فقير ثم يأمره بفعل هذه الاشياء وهل له ان يخالف امره والظاهر نعم ) واللہ تعالیٰ اعلم (۲) نماز لاؤڈ اسپیکر پر جائز نہیں کہ اس میں ایک گروہ یا کل کی نماز کو فاسد کرنا ہے کہ جو لوگ محض اس آلے کی آواز پر بغیر دوسرے مقتدیوں کو دیکھے یا امام کی اصل آواز کو بے سنے رکوع و سجود کریں گے، ان کی نماز فاسد ہوگی اور اگر وہ آلہ ایسا ہے کہ اس میں عمل کثیر سے آواز ڈالنا پڑے تو سب کی نماز فاسد ہوگی۔ (1) الدر المختار، ج۳، کتاب الزكوة باب المصرف، ص ۲۹۳، ۲۹۴ ۲۹۴۲۹۳، دار الكتب العلمية، بيروت غنیہ میں ہے: لو سمعها عن الطائر او الصدى لا تجب لانه محاكاة وليس بقراءة (1) تنویر و در مختار میں ہے: وویفسدها كل عمل كثير ليس من اعمالها ولا لاصلاحها (۲) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الجواب صحیح وصواب۔ واللہ تعالٰی اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۳ رشوال المکرم ۱۳۹۶ھ