زکوۃ کم نکالنے کا حکم، زکوۃ و فطرہ کے مستحقین اور مدرسہ کے لئے چندہ کا طریقہ
زکوة کم نکالنے والا گنہ گار ہے ! بغیر فقراء و مساکین کو دیے زکوۃ فطرہ ادا نہ ہوں گے! علمائے دین کیا فرماتے ہیں دریں مسئلہ کہ : (1) زکوۃ بالکل نہ نکالنے والا اور زکوۃ کم نکالنے والا ( جیسے دس ہزار میں دو ہزار نکالی اور آٹھ ہزار کی نہیں نکالی ) ان دونوں شخصوں میں کیا فرق ہے؟ اور دونوں کے لئے شرع شریف کا کیا حکم ہے؟ واضح فرما یا جاوے۔ عین مہربانی ہوگی ! (۲) فطرہ وزکوۃ پہلے قریب والوں کو ویقیموں مسکینوں کو دینا چاہئے یا ان سب کو محروم کر کے سب کا سب مدر سے کو دینا چاہئے؟ کس میں زیادہ ثواب ہے؟ (۳) امام صاحب یہاں ایک نئے مدرسہ کی بنیاد ڈالنا چاہتے ہیں، اس کے لئے یہ اعلان کر دیا کہ فطرہ کا کل پیسہ واناج کا دانہ دانہ اور زکوۃ کا کل روپیہ ایک جگہ جمع کریں اور کسی کو نہ دیں اور باہر کے مدرسوں کو گاؤں کے غریب یتیموں مسکینوں کو تھوڑا بہت دے دیا جائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا ہے اور فطرہ وزکوۃ ایک ہی جگہ جمع کرائی گئی ہے نہ کسی مدرسے کو کوئی پیسہ اب تک بھیجا ہے اور نہ کسی مسکین و غیر یب کو دیا گیا ہے۔ یہ منص بغیر مرکز کی اجازت لئے درست ہے یا نہیں؟ یہ سب کچھ کیا اور کیسا ہے؟ واضح فرما یا جاوے۔ نوازش ہوگی ! سائل: حبیب احمد و کمال
الجواب: (1) دونوں گنہ گار ہوں گے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) زکوۃ وفطرہ کا مصرف فقیر ومسکین ہیں، مدرسہ و مسجد میں دینے سے زکوۃ وغیرہ صدقات واجبہ ادا نہ ہوں گے۔ مدرسہ وغیرہ کو دینا چاہیں تو طریقہ یہ ہے کہ مستحق کو دے کر مالک بنادیں پھر اس کی خوشی سے مدرسہ کے لئے لے لیں۔ اس طرح دونوں کو ثواب ملے گا اور معطی زکوۃ کو دوہرا، ایک فرض زکوۃ کا دوسرا بھلے کام کی رہنمائی کا۔حدیث میں ہے: ،، الدال على الخير كفاعله ) واللہ تعالیٰ اعلم (۳) اوپر گزرا کہ زکوۃ و فطرہ بغیر فقراء ومساکین کو دیے ادا نہ ہوں گے، انہیں دے کر مالک بنائیں پھر وہ اپنی خوشی سے مدرسہ کے لئے دے دیں اور یہ بہتر ہے کہ انہیں ضرورت بھر چھوڑ دیں۔ یہ امر گاؤں والوں کی رائے پر ہے ، وہ دیگر مدارس کو بھیجیں یا نہ بھیجیں۔ جیسی مصلحت ہو، کریں ۔ اس میں کسی کوکسی جرح کا حق نہیں پہنچتا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۸ رشوال المکرم ۱۳۹۵ھ