زکوۃ کی رقم مساجد و مدارس وغیرہ میں لگانے کا شرعی حیلہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین حسب ذیل مسئلہ میں کہ: (۱) ہمارے محلہ میں ایک مدرسہ ہے، ہم لوگوں نے اس کو قریب دو سال سے قائم کیا ہے جس کا نام نامی اسم گرامی مدرسہ دیوان موسیٰ انوار العلوم رکھا ہے، اس مدرسہ میں غریب اور امیر سب کے نیچے تو حاصل کرتے ہیں، اس مدرسہ میں جو مدرس ہیں، ان کی تنخواہ ہم لوگ محلہ والے آپس میں چندہ کر کے دیتے ہیں لیکن وہ مدرسہ جو تعمیر کیا گیا اس میں کچھ زکوۃ و فطرہ چرم کا پیسہ لگایا گیا ہے تو کیا اس حالت میں مدرسہ کی تعمیر درست ہے یا نہیں؟ شریعت کے قانون سے جواب عنایت فرما ئیں۔ اگر درست ہے تو ٹھیک ہے اگر درست نہیں ہے تو ہم لوگ کس طرح کیا کریں؟ یہ معلوم کرائیں ! (۲) امسال بھی ہم لوگوں نے کچھ پیسہ زکوۃ و فطرہ چرم قربانی کے جمع کیے ہیں اور ہمارے مدرسہ میں دو بچے یتیم یعنی ایک لڑکا اور ایک لڑکی۔ ہم لوگ چاہتے ہیں کہ اس جمع کیے ہوئے پیسے سے ان دو یتیم بچوں کو کپڑا بنا کر دے دیں اور ان لوگوں کے پڑھنے کی جو کتاب وغیرہ ہے، اسے بھی دیں گے باقی جو کچھ پیسہ بچے گا اس پیسہ کو ہم لوگ مدرسہ کے کام میں صرف کر سکتے ہیں یا نہیں؟ اس کا بھی شریعت کے قانون سے جواب عنایت فرمائیں۔ یہ یادر ہے کہ ہم لوگ ان دو یتیم بچوں سے مدرس کی تنخواہ کا بھی چندہ نہیں لیتے ہیں۔ المستفتی: حافظ شیخ الہی بخش قادری پیش امام گرایور مسجد، کشوه، ( اڑیسہ)
الجواب: (1) زکوة و فطرہ کا مستحق فقیر مسلم ہے۔ تعمیر مدرسہ و مسجد میں زکوۃ وفطرہ کی رقم لگانا جائز نہیں نہ ان مصارف میں خرچ کیے سے زکوۃ وغیرہ ادا ہو۔ ان مصارف میں خرچ کرنا چاہیں تو حیلہ یہ ہے کہ کسی مستحق کو دے کر مالک بنادیں پھر اس سے کہیں کہ تم اپنی خوشی سے اسے مدرسہ یا مسجد کو دے دو۔ در مختار میں ہے: ”قد منا ان الحيلة ان يتصدق على فقير ثم يأمره بفعل هذه الاشياء ،، و هل له ان يخالف امره والظاهر نعم (1) صورت مسئولہ میں اگر ز کوۃ و فطرہ کی رقم اس حیلہ سے تعمیر کے لئے دی یا مہتم کو وکیل بنادیا کہ وہ حیلہ کر کے مدرسہ میں لگائے اور اس نے حیلہ مذکورہ کر لیا تو زکوۃ وفطرہ ادا ہو گئے ورنہ ادا نہ ہوئے اور مہتم کو وکیل کرنے کی صورت میں اگر اس نے حیلہ مذکورہ نہ کیا تو اس پر ان رقوم کا تاوان لازم ہے۔ چرم قربانی کے پیسہ کو مدرسہ میں بے حیلہ دے سکتے ہیں جب کہ وہ اپنے لئے چرم کو نہ بیچا ہو ورنہ فقیر پر صدقہ کرنا لازم ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) جتنا ان نادار یتیموں کو دے کر مالک بنادیں اتنا بھر ز کوۃ یا فطرہ ادا ہو جائے گا باقی حیلہ شرعی لازم ہے۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۶ محرم الحرام ۱۳۹۸ھ (1) الدر المختار، ج ۳، کتاب الزكوة، باب المصرف، ص ۲۹۳، ۲۹۴ ۲۹۳، ۲۹ دار الكتب العلمية، بيروت