صاحب نصاب یا ان کی نابالغ اولاد پر زکوۃ و فطرہ کا مصرف نہیں ہونا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ : ایک دینی مدرسہ جو بورڈ سے الحاق شدہ ہے جس میں عربی دینیات کے علاوہ حساب اور انگریزی کی تعلیم بورڈ کے قانونی اصول وضوابط کے ساتھ دی جاتی ہے، طلباء و طالبات گاؤں پڑوس کے باشندے ہیں جس میں اہل نصاب و غیر نصاب کے لڑکے تعلیم پاتے ہیں، بورڈ کا کوئی انتظام نہیں ہے، دیہات کی وجہ سے دھان کے وقت دھان اور پاٹ کے وقت پاٹ (یعنی سن ) جو عشر نکالتے ہیں مدرسے کے سکریٹری یا دیگر ذمہ داروں کو دیتے ہیں، قربانی کا چمڑا اور صدقہ فطر بھی دیتے ہیں پھر اسے دینے والے اہل نصاب اور غیر نصاب دونوں کے بچے خود اسی میں تعلیم پاتے ہیں ، ایسے لڑکے بہت کم ہوں گے بلکہ نہیں کے برابر جو کچھ نہ دیا سو مذکورہ صورتوں میں رہنے والے بچوں کا پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ اور دینے والا اس صورت میں زکوۃ وعشرہ سے بری الذمہ ہوگا یا نہیں؟ لاعلمی میں دینے کا کیا حکم ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
الجواب: زکوۃ فطرہ کی رقوم کا مستحق فقیر ومسکین مسلم ہے ، صاحب نصاب لوگوں پر اور ان کی نابالغ اولاد پر یہ رقوم خرچ نہیں ہوسکتی ہیں، نہ انہیں دینے سے زکوۃ وغیرہ ادا ہوگی ۔ فقراء کے بچوں پر وہ رقوم خرچ کر سکتے ہیں اور سب پر خرچ کرنا چاہیں تو حیلہ یہ ہے کہ کسی فقیر یا مسکین کو دے کر اسے ما لک بنادیں پھر اس سے مدرسہ کے لئے لے لیں اور لینا اس کی خوشی سے ہو۔ در مختار میں ہے : ” قد منا ان الحيلة ان يتصدق على فقير ثم يأمره بفعل هذه الاشياء وهل له ان يخالف امره والظاهر نعم (1) چرم قربانی مدرسہ میں بلا حیلہ بھی دے سکتے ہیں مگر جبکہ اپنے لئے چرم بیچی ہو تو اس کی رقوم بے حیلہ مدرسہ کو نہیں دے سکتے ہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی