مدارس میں حیلہ شرعی کے ذریعہ زکوۃ و فطرہ کی رقم کا استعمال اور اس کے جواز کا بیان
اور مدرسین کو روپے بھی ملتے ہیں مگر اس مدرسہ کو حکومت سے کچھ نہیں ملتا ، صرف مدرسین کو محض مختصر سے روپے ملتے ہیں۔ باقی مدرسین کی تنخواہیں اس مدرسہ سے حیلہ شرعی کے بعد دی جاتی ہے اور اس مدرسہ میں قیام کے اعتبار سے روم کی قلت ہے اس لئے اس کی قید اور وسیع عمارت اس مدرسہ کے زیر انتظام غوث الوری عربی کالج کے نام سے بن رہی ہے اور اس میں حیلہ شرعی کی بنیاد پر تملیک کے بعد لڑکوں کی اجازت سے روپے صرف ہوتے ہیں اور جس طرح یہ مدرسہ مدرسہ بورڈ پٹنہ سے منظور ہے، اسی طرح بہار کے بہت سے مدارس اس مدرسہ بورڈ پٹنہ سے منظور ہیں جہاں زکوۃ وفطرہ کی رقم دی جاتی ہے جیسے علامہ ارشد القادری صاحب کا مدرسہ مدرسہ فیض العلوم جمشید پور، مدرسہ شمسہ تیغیہ انوارالعلوم بڑہریا ،سیوان، مدرسہ دادا پٹی مظفر پور، مدرسہ جامع العلوم جلال پور جہاں کے منتظمین شدت سے امام اہل سنت فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کے مسلک کے پابند ہیں۔ اب ایسی صورت میں دریافت طلب یہ امر ہے کہ مدرسہ اسلامیہ محی العلوم شکل ٹولی علی گنج سیوان کو جو قو می مدد اور زکوۃ وفطرہ کی رقم سے چل رہا ہے، اس میں اور ان مذکورہ مدرسوں میں زکوۃ فطرہ کی رقمیں دی جاسکتی ہیں یا نہیں؟ اور اگر دی جاتی ہیں تو جو لوگ مدرسہ اسلامیہ کی العلوم شکل ٹولی علی گنج سیوان اور ان مذکورہ مدرسوں میں زکوۃ وفطرہ کی رقم دینے سے منع کرتے ہیں ان پر شریعت مطہرہ کا کونسا دفعہ لاگو ہوگا ؟ بینوا توجروا
الجواب: ہاں حیلہ شرعی سے یہ رقوم مدرسہ اور ہر کار خیر میں صرف کی جاسکتی ہیں اور حیلہ وہی ہے کہ مستحق زکوۃ کو مالک بنا کر اس کی خوشی سے مدرسہ یا کسی کار خیر کے لئے لے لیں۔ در مختار میں ہے: قدمنا ان الحيلة ان يتصدق على فقير ثم يأمره بفعل هذه الاشياء وهل له ان يخالف امره والظاهر نعم (1) (1) الدر المختار، ج۳، کتاب الزكوة باب المصرف، ص ۲۹۳، ۲۹۴ ۲۹۴۲۹ دار الكتب العلمية، بيروت جولوگ منع کرتے ہیں وہ گناہ گار ہیں کہ کار خیر سے روکتے ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله