زکوۃ وفطرہ کی رقم سے مدرسین کی تنخواہ اور مدرسہ و مسجد کی تعمیر کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین کہ: ہم لوگوں نے ایک مدرسہ قائم کر رکھا ہے جس کے لئے ہم لوگ ماہانہ چندہ وصول کرتے ہیں۔ ایسی حالت میں بھی روپیہ پورا نہیں ہوتا کیونکہ قصبہ چھوٹا ہے، مسلمانوں کی آبادی تھوڑی ہے۔ مولوی صاحبان بھی کم تنخواہ پر آنے کو تیار نہیں ہوتے اور آتے بھی ہیں تو تھوڑے دن تک رہتے ہیں ، جب وہ اپنا انتظام دوسری جگہ کر لیتے ہیں تو فوراً چلے جاتے ہیں۔ ایسی حالت میں بچوں کی تعلیم میں فرق آتا ہے۔ کیا ایسی صورت میں صدقہ فطر، زکوۃ کے روپے سے مولوی صاحبان کی تنخواہ دی جاسکتی ہے؟ نیز یہ بھی بتائیں کہ کیا اس رقم کو مدرسہ کی عمارت یا مسجد کی آراضی میں صرف کر سکتے ہیں؟ مہربانی کر کے صاف صاف مفصل تحریر کر دیجئے گا، مہر بانی ہوگی ۔ جواب جلد از جلد روانہ کر دیجئے گا !
المستفتی: محمد ابراہیم (شوز مرچنٹ) قصبہ کھوٹا، ڈاکخانہ خاص ضلع شاہ جہان پور (یوپی)
الجواب: زکوۃ وفطرہ کی رقم تنخواہ مدرسین و دیگر مصارف مدرسہ وغیرہ پر خرچ نہیں ہوسکتی، فقیر کو یہ رقم دینا ضروری ہے، اس سے ان امور کے لئے مانگ لیں اور وہ بخوشی دے دے تو ان امور میں صرف کر سکتے ہیں۔ در مختار میں ہے: قدمنا ان الحيلة ان يتصدق على فقير ثم يأمره بفعل هذه الاشياء وهل له ان يخالف امره والظاهر نعم ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله