زکوۃ و فطرہ کی رقم اشاعت اسلام کے اداروں میں استعمال کرنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ: رقوم صدقہ فطرہ، زکوۃ علاوہ مدارس دینیہ ایسے اداروں پر جن کا مقصد اولین اشاعت اسلام و فروغ مذہب اہلسنت ہو، استعمال ہو سکتی ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو کیوں؟ جواب مکمل دلائل و براہین کی روشنی میں وضاحت کے ساتھ جلد عنایت فرما کرعنداللہ ماجور وعند الناس مشکور ہوں ۔ والسلام ! امستفتی: احقر فاروق رضوی نیو بلاک، نیو ہال علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (علی گڑھ)
الجواب: زکوۃ وفطرہ کی رقوم کا مصرف فقیر مسلم ہے، مدرسہ و مسجد کو یہ رقوم دینے سے زکوۃ وفطرہ ادانہ ہوں گے، مدرسہ یا کسی ادارہ خیر کے لئے ان رقوم کو دینے کا حیلہ یہ ہے کہ فقیر مسلم کو مالک بنا کر اس سے مدرسہ وغیرہ کے لئے لیں۔ در مختار میں ہے: ”قد منا ان الحيلة ان يتصدق على فقير ثم يأمره بفعل هذه الاشياء وهل له ان يخالف امره والظاهر نعم ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۴ شعبان المعظم ۱۴۰۰ھ