فطرہ کی ادائیگی کے وقت بازاری بھاؤ کے اعتبار سے متعلق مسئلہ
میں ادا کیا اور گیہوں کا نرخ ارزاں تھا تو زید کو باقی پیسے ادا کرنے ہوں گے، گیہوں کے حساب سے فطرے کے واسطے عید کے روز یا عید سے ایک یوم قبل کا اعتبار کیا جاوے گا۔ عمر کہتا ہے کہ جس روز فطرہ ادا کرے اس روز کا جو بھاؤ ہو اسی حساب سے دے، عید کے روز یا عید سے ایک یوم قبل کا اعتبار کیا جاوے گا۔ زید پھر کہتا ہے کہ جس روز فطرہ ادا کرے اس روز کا جو بھاؤ ہو اسی حساب سے دے، عید کے روز یا عید سے ایک یوم قبل کی کوئی قید نہیں۔ لہذا صورت مسئولہ میں زید صحیح ہے یا عمر و صحیح ہے؟ بحوالہ کتب معتبرہ سے جواب مرحمت فرما یا جاوے۔ بینوا توجروا المكلف محله شیر محمد پیلی بھیت
الجواب: زید کا قول صحیح وصواب ہے بلا شبہہ جب فطرہ دے اسی وقت کے بازار بھاؤ کا اعتبار ہوگا، شریعت مطہرہ کا یہ احسان ہے کہ اس نے فطرہ دینے کا وقت واسع رکھا امت مسلمہ پر یہ آسانی فرمائی تو کیا اس کے باوجود ایسی تکلیف متصور ہے کہ اس بھاؤ کا لحاظ رکھا جائے جس کا ابھی علم بھی نہیں؟ پھر وقت کا واسع ہونا خود مدعائے زید پر روشن دلیل ہے بخلاف دعوائے عمرو کے، اس میں وقت کی تضییق لازم آتی ہے کما لا یخفی ورنہ اس قول کے کیا معنی کہ ”مگر عید کے روز یا عید سے ایک روز قبل الخ ، حالانکہ وسعت وقت کو وہ خود بھی مانتا ہے جیسا کہ پہلی سطر سے ظاہر ہے۔حاشا وکلا۔ قرآن فرماتا ہے: مَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ عمر و کا قول باطل ہے۔ کتب معتبرہ میں اس کی تصریح نہیں ، تو بہ گرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ القوی