مدرسہ کے قرض اور ترقی کے لئے زکوٰۃ، فطرہ اور قربانی کی کھالوں کا استعمال
صدقات واجبہ مساجد و مدارس میں لگانا کیسا؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ہذا میں کہ: انجمن مظہر اسلام نے ایک مدرسہ اسلامیہ مظہر العلوم کے نام سے ۱۹۷۸ء میں قائم کیا ہے۔اس مدرسہ میں ذاتی یا انجمن کی کوئی زمین نہیں تھی ، اب ایک جگہ لی گئی ہے اور اس انجمن کا مقصد یہ ہے کہ مدرسه کوترقی دی جائے ، جہاں باہر کے لڑکے اور شہر کے بچے پڑھیں اور اس وقت دو مدرس بچوں کو تعلیم و تربیت دے رہے ہیں اور نادار غریب بچوں کو کتابیں بھی مدرسہ ہی کی طرف سے دی جاتی ہیں اور اس وقت مدرسہ کو کافی روپیوں کی ضرورت ہے، جو زمین لی گئی ہے مدرسہ کے لئے اس کا پیسہ دوسرے سے لے کر دیا گیا ہے یا ابھی باقی ہے تو اس صورت میں اس مدرسہ کو ز کوۃ یا فطرہ یا قربانی کی کھالیں یا ایسا
الجواب: زکوۃ فطرہ و جملہ صدقات واجبہ کا مصرف فقیر مسلم ہے لہذا اس کی ادائیگی کے لئے فقیر مسلم کو مالک بنادینا شرط ہے ورنہ زکوۃ وغیرہ ادا نہ ہوگی۔ مدرسہ کے لئے حیلہ شرعی یہ ہے کہ فقیر کو مالک بنا کر اس کی خوشی سے مدرسہ کے لئے لے لیں۔ در مختار میں ہے: ”قد منا ان الحيلة ان يتصدق على فقير ثم يأمره بفعل هذه الاشياء و هل له ان يخالف امره والظاهر نعم ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ے رشوال المکرم ۱۳۹۸ھ دارالافتاء منظر اسلام،محلہ سوداگران، بریلی شریف