مدرسہ کی حدود میں سنیما دکھانے اور اس کی آمدنی کے استعمال کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ایک مدرسہ محلہ دمدمہ دار العلوم انصاری قائم ہے جس میں زکوۃ وفطرہ اور چرم قربانی اور ادارہ مدرسہ کے اراکین وصول کرتے ہیں اور مدرسہ پر خرچ کرتے ہیں لہذا کچھ مدرسہ کے اراکین نے ان بچوں سے جو تعلیم حاصل کرتے ہیں جن میں عربی اردو ہندی تعلیم دی جاتی ہے ان سے ایک روپیہ لے کر ۔ اور ایک چلتی پھرتی مشین فلم دکھانے والی کو کرایہ پر لاکر اور پھر ایک روپیہ ٹکٹ اس پر لگا کر لوگوں سے وصول کیا اور دار العلوم کی چہار دیواری کے اندرشب میں سنیما دکھایا گیا اور یہ کہا گیا ہے ایسے لوگوں پر جو کہ مدرسہ میں تعلیم بھی دیتے ہیں، وہ بھی اس میں ملوث ہیں تو کیا سنیما کی آمدنی کو ایسے مدرسہ پر خرچ کیا جا سکتا ہے؟ اور ان لوگوں پر جو مدرسہ کے اراکین ہیں، کیا ایسا فعل جائز ہے؟ لہذا ان اراکین پر اور جنہوں نے سنیما لا کر دکھایا اور لوگوں نے دیکھا، ان پر کیا شرعی حکم ہے؟
وہ رقم مدرسہ پر خرچ نہ کرنا چاہئے۔ حدیث میں ہے: ان الله طيب لا يقبل الا الطيب (1) اللہ پاک ہے، وہ پاک ہی کو قبول کرتا ہے اور وہ لوگ سخت گناہ گار مستوجب نار ہیں ان سب پر تو بہ فرض ہے، ایسے مدارس میں زکوۃ نہ دی جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۸ صفر المظفر ۵۱۴۰۴ در سفر