شعر ابرو کا صفایا، زمینی پیداوار پر عشر اور دیہات میں نماز ظہر کا حکم
زمینی پیداوار میں عشر واجب ہے! کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسائل ذیل میں کہ : (1) زید کہتا ہے کہ شعر ابرو کا صفایا جائز ہے۔ اگر ایسا ہے تو کیوں؟ اگر نہیں تو کیوں؟ دلیل کے ساتھ واضح فرمائیں! (۲) زکوۃ زمین اور اس کی پیداوار سے کس طرح ادا کی جائے گی ؟ اس کا نصاب کیا ہے؟ اس دور میں زمین کالگان بھی دیا جاتا ہے اور آبپاشی بھی مقررہ شرح پر دی جاتی ہے، ایسی زمین پر عشر کی کیا حالت ہوگی ؟ (۳) جہاں دیہات میں جمعہ پڑھا جاتا ہو، وہاں پر ظہر باجماعت پڑھی جائے گی یا الگ الگ لوگ
(۱) شعر ابرو کا صفایا نا جائز ہے کہ تغییر خلق اللہ ہے اور یہ حرام ہے۔ قال تعالیٰ: فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللهِ- الآية () اور غلط مسئلہ بتا ناحرام ہے جس سے تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) زمین کی پیداوار اگر بارش یاندی وغیرہ کے پانی سے ہوئی تو اس پر دسواں اگر مول کے پانی سے ہوئی ہے تو اس پر بیسواں حصہ ہے۔ لگان وغیرہ خراج شرعی نہیں جو عشر معاف ہو جائے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) ظہر باجماعت پڑھیں اور ظہر یقینی فرض ہے، احتیاطی ظہر یہ شرائط ان خواص کے لئے ہے جنہیں کسی جگہ کے شہر ہونے میں شک ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله