مسجد مدرسہ کے لئے زکوۃ کی رقم وصول کرنا کیسا؟
مسجد میں زکوۃ فطرہ عشر لگانے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اگر کسی مسجد میں یہ رقم لگائی گئی تو نماز کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اگر اس کی رقم مسجد میں لگائی ہو تو اس کے مستحقین کو واپس کر سکتے ہیں یا نہیں؟ اگر رقم واپس نہیں کی گئی تو اس میں نماز کا کیا حکم ہے؟ زید نے اعتراض کیا کہ زکوۃ وغیرہ کی رقم مسجد میں
نہیں لگا سکتے اور یہ رقم لگا کر ہم مسجد کو کباڑ نہیں بنانے دیں گے جس پر بکر نے جواب دیا یہ رقم مسجد میں لگائیں گے یہ میری مرضی ہے، زید و بکر پر کیا حکم شرعی عائد ہوتا ہے؟ الجواب: زكوة، فطرہ، عشر کا مستحق فقیر مسلم ہے، مسجد و مدرسہ کو دینے سے زکوۃ وغیرہ صدقات واجبہ ادانہ ہوں گے اور یہ رقوم مسجد وغیرہ کے لئے لینا جائز نہیں، دینے والے کو اختیار ہے کہ واپس لے لے یا وہ رقوم واپس نہ لے اور زکوۃ وغیرہ اپنے مال سے ادا کر دے، مسجد وغیرہ کو زکوۃ کی رقم دینا ہو تو حیلہ یہ ہے کہ فقیر مسلم کو مالک بنادیں پھر اس کی خوشی سے مسجد وغیرہ کے لئے لے لیں۔ در مختار میں ہے: ” قد منا ان الحيلة ان يتصدق على فقير ثم يأمره بفعل هذه الاشياء وهل له ان يخالف امره والظاهر نعم (1) اور نماز اس مسجد میں جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله