صدقہ فطر کی ادائیگی کے وقت گیہوں کی قیمت کے اعتبار کا مسئلہ
کیا فرماتے ہیں حضرات علمائے کرام ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: (۱) زید کہتا ہے کہ رمضان المبارک کا صدقہ فطر اگر پیسوں سے ادا کرے گا تو جس وقت گیہوں کا جو نرخ ہوگا اسی حساب سے ادا کرے گا۔ (۲) عمرو کہتا ہے کہ شروع رمضان المبارک یا رمضان شریف کے آخری عشرہ میں صدقہ فطر ادا کرے تو ٹھیک ہے مگر عید کے روز یا عید سے ایک یوم قبل جو بھاؤ ہو اور اس کا لحاظ رکھے شروع ماہ یا آخر عشرہ میں وہی بھاؤ تھا جو عید کے روز تھا یا عید سے ایک یوم قبل تھا جب تو ٹھیک ہے اور اگر اتفاق سے عید کے روز یا عید سے ایک یوم قبل کو بھاؤ گیہوں کا گراں تھا اور زید نے شروع رمضان شریف یا نصف رمضان المبارک
الجواب: زید کا قول صحیح وصواب ہے بلا شبہہ جب فطرہ دے اسی وقت کے بازار بھاؤ کا اعتبار ہوگا، شریعت مطہرہ کا یہ احسان ہے کہ اس نے فطرہ دینے کا وقت واسع رکھا امت مسلمہ پر یہ آسانی فرمائی تو کیا اس کے باوجود ایسی تکلیف متصور ہے کہ اس بھاؤ کا لحاظ رکھا جائے جس کا ابھی علم بھی نہیں؟ پھر وقت کا واسع ہونا خود مدعائے زید پر روشن دلیل ہے بخلاف دعوائے عمرو کے، اس میں وقت کی تضییق لازم آتی ہے کما لا یخفی ورنہ اس قول کے کیا معنی کہ ”مگر عید کے روز یا عید سے ایک روز قبل الخ ، حالانکہ وسعت وقت کو وہ خود بھی مانتا ہے جیسا کہ پہلی سطر سے ظاہر ہے۔حاشا وکلا۔ قرآن فرماتا ہے: مَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ ) عمر و کا قول باطل ہے۔ کتب معتبرہ میں اس کی تصریح نہیں ، تو بہ گرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ القوی