زکوۃ کے مصارف، مستحقین، عشر کے مسائل اور زکوۃ کے حساب کا طریقہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں کہ: (1) زکوۃ کا پیسہ کن کن چیزوں پر خرچ نہیں کیا جا سکتا ؟ (۲) زکوۃ کن کن لوگوں کو نہیں دی جاسکتی؟ (۳) لگانی زمین پر سرکاری ٹیکس، بیج، آبپاشی کو مجرا کر کے عشر کی رقم واجب ہے یا بغیر مجرا؟ (۴) عشر کی رقم ادا کرنے کے بعد جو غلہ کاشتکار کو بچتا ہے اس پر زکوۃ واجب ہے یا نہیں؟ (۵) سائل نے ۱۹۸۱ء میں ایک ہزار روپیہ بچایا، اس پر ۲۵ / رو پیز کوۃ ادا کیا اور ۹۷۵ / روپیہ بند کر کے رکھ دیا۔ اب پھر ۱۹۸۲ء میں اپنی محنت سے اس ایک ہزار روپیہ پر زکوۃ دینا ہے یا اس پارسال کی زکوۃ کی ہوئی رقم کو شامل کر کے زکوۃ ادا کرنا ہے ؟ مفصل طریقہ سے جواب سے مطلع فرمائیں۔ مستفتی: حاجی نواب محمد شمس الحسن خاں شیر پور کلاں ،سنہری مسجد ،ضلع پیلی بھیت
الجواب: (۱) مسجد و مدرسہ یا میت کے کفن یا میت کے قرض یا غلام کی قیمت میں زکاۃ فطرہ صدقات واجبہ کا روپیہ خرچ کرنا جائز نہیں کہ اس کا مصرف فقیر ومسکین ہے اور ان امور میں خرچ کرنا چاہیں تو حیلہ یہ ہے کہ فقیر مسلم کو دے کر مالک بنادیں پھر وہ اپنی خوشی سے کسی کام کے لئے دے دے۔ مراقی الفلاح میں ہے: و کفن میت و قضاء دينه و ثمن قن يعتق (1) اسی کے تحت طحطاوی میں ہے: قال في الدر نقلا عن حيل الاشباه وحيلة التكفين بها التصديق على فقير غم هو يكفن فيكون الثواب لهما وكذا في تعمير المساجد الخ “ (۲) واللہ تعالیٰ اعلم (1) مراقی الفلاح شرح نور الايضاح كتاب الزكوة، ص ۲۶۳، مکتبه اسعدی، کانپور (۲) حاشية الطحطاوي على المراقي کتاب الزكوة ص ۷۲۱ ، دار الكتب العلمية، بيروت (۲) کافر مسلم مالک نصاب یا قیمت نصاب ( جبکہ حوائج اصلیہ اور دین سے فاضل ہو ) غنی کا بچہ نابالغ لڑکا ہو یا لڑکی ، بنو ہاشم اور ان کے موالی اور زکوۃ دہندہ کے ماں باپ، دادی دادا، نانی نانا، جملہ اصول اور اس کے بیٹے بیٹی ، پوتے پوتی، نواسے نواسی ، جملہ فروع اس کی زوجہ، اس کا غلام، اس کا غلام مکاتب، اس کا غلام معتق ، ان لوگوں کو زکوۃ دینا جائز نہیں اور دے گا تو ادا نہ ہوگی۔ مراقی الفلاح میں ہے: وو ولا يصح دفعها لكافر وغنی یملک نصابا او ما یساوی قیمته من ای مال کان فاضل عن حوائجه الاصلية وطفل غنی و بنی هاشم و مواليهم واصل المزکی و فرعه و زوجته و مملو که و مکاتبه و معتق بعضه )) طحطاوی میں ہے: قوله ( وطفل غنی) ذكرا كان او انثى فى عياله اولا على الاصح لانه يعد غنيا بغنى ابيه والمراد بالطفل الذى لم يبلغ بخلاف ولده الكبير ولو زمنا “ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) بغیر مجرائی۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) ملا کر ز کوۃ ادا کرے مگر جبکہ اس ایک ہزارر پہ سال نہ گزرا تھا اور اس نے سال گزرنے سے پہلے ہی زکوۃ ادا کر دی تو سال گزشتہ کی رقم کو ملانا ضرور نہیں کہ اس کی زکوۃ ادا ہو چکی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الجواب صحیح۔ واللہ تعالی اعلم بہاء المصطفیٰ قادری ۳/ذوالحجہ ۱۴۰۲ھ