صدقات واجبہ کا مصرف فقیر مسلم ہے، سید کوزکوۃ وفطرہ وغیر ہادینا حرام!
علمائے دین ومفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسائل میں بحوالہ کتب فقہ کیا فرماتے ہیں کہ :\n(۱) غلہ عشر مساکین میں تقسیم یا اسے بیچ کر انہیں کپڑا خرید دینا، ان کی شادی میں بطور امداد دینا یا حج\nبیت اللہ کے لئے اسی غلہ عشر سے اس کے تمام سفر خرچ کی کفالت کرنا یا تعمیر مسجد کے کام میں لگانا یا صدقہ\nجاریہ کی نیت کرتے ہوئے کنواں یا ٹیوب ویل تیار کرا دینا کیسا ہے؟\n(۲) دیگر تعمیر مدرسہ بھی اس کے ذریعہ کرا سکتے ہیں یا نہیں؟ یا وہ مزدور جس کی کمائی اس کی اولاد پر\nکفایت نہ کرتی ہو اس کے مومن ہونے کی شرط پر غلہ عشر سے دیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ یا مسلمان ہے تو مگر\nشیخ ہے تو پھر اس کا کیا حکم ہوگا؟ مزید وہ مدارس عربیہ جس کی کفالت گورنمنٹ نے قبول کر لی ہو اور اس\nمیں کچھ دنیاوی تعلیمات بھی ہو رہی ہوں۔\n(۳) ایک اور مسئلہ یہ کہ باپ سید ہے اور ماں شیخ کی لڑکی ہے ، مفلسی حد درجہ کو پہنچ گئی ہو تو ایسی صورت اور حد ہوتو\nمیں ان کی اولا دز کوۃ کی مستحق ہوں گی یا نہیں ؟ مزید دینے والے کا کیا حکم ہے؟\nالمستفتی: محمد سالم رضا\nمتعلم مدرسه عربی فیض العلوم، محمد آباد، گو ہنہ ضلع اعظم گڑھ (یوپی)
(۱، ۲) زکوۃ وفطرہ وعشر صدقات واجبہ ہیں جن کا مصرف فقیر مسلم ہے۔ قال تعالیٰ:\nإِنَّمَا الصَّدَقْتُ لِلْفُقَرَاء - الآية ))\nاور مزدور کہ صاحب نصاب نہ ہو وہ بھی فقیر ہے اور زکوۃ وغیرہ کا مصرف ہے، فقیر کو دے کر\nمالک بنا دینا (خواہ کسی طرح دے ) ادائے واجب کے لئے بس ہے، مسجد و مدرسہ وغیرہ پر یہ رقوم بغیر\nحیلہ شرعی خرچ نہیں ہو سکتی۔ حیلہ شرعی یہ ہے کہ فقیر کو دے دیں اور وہ اپنی خوشی سے مسجد یا مدرسہ یا کسی\nنیک کام کے لئے دے دے۔\n(1) سورة التوبة : ٦ در مختار میں ہے: "قدمنا ان الحيلة ان يتصدق على فقير ثم يأمره بفعل هذه الاشياء وهل له ان يخالف امره والظاهر نعم )) شیعہ مسلمان نہیں، اسے دینے سے زکوۃ ادا نہ ہوگی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) سید کو ز کوۃ وفطرہ وغیر ہادینا حرام ہیں، ان کو دیے سے ادا نہ ہوگی۔ سیدوں کی خدمت ان رقوم سے کرنا چاہیں تو وہی حیلہ شرعی بروئے کارلائیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۴ رذی قعده ۱۴۰۰ھ دارالافتاء منظر اسلام، محلہ سوداگران، بریلی شریف