گورنمنٹ سے ملحقہ مدرسہ کو زکوۃ، صدقہ فطر اور چرم قربانی دینے کا حکم
مدرسہ گورنمنٹ سے ملحق ہو تو زکوۃ وفطرہ دے سکتے ہیں یا نہیں؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ہمارے گاؤں میں زمانہ قدیم سے دینی مدر سے قائم ہیں، بہت سے لوگ یہاں سے پڑھ کر علماء ہوئے ، اب اس ادارہ کو گورنمنٹ سے الحاق کر دیا ہے۔ اس ادارہ میں صدقہ فطر و چرم قربانی دینا جائز ہے یا نہیں؟ ایک مولانا صاحب کا کہنا ہے کہ کسی حدیث سے ثابت نہیں کہ صدقہ فطر دیں اس لئے کہ مدرسی گورنمنٹی ہے، زید کا کہنا ہے کہ مطبخ وغیرہ نہیں ہے اس لئے جائز نہیں ۔ بحکم شریعت خلاصہ جواب لکھیں ! المستفتی : مولوی یعقوب صاحب موضع شیخ پورہ ضلع کٹیہار، (بہار)
الجواب: مدرسہ گورنمنٹ سے ملحق ہو یا نہ ہو، زکوۃ وفطرہ وغیرہ صدقات واجبہ مدر سے وغیر ہا کو دینا جائز نہیں اور ایسی صورت میں زکوۃ وغیر ہا ادا نہ ہوں گے۔ مدرسہ کی خدمت اگر رقوم زکوۃ سے کرنا چاہیں تو فقیر مسلم کو مالک بنادیں پھر وہ اپنی خوشی سے دوسرے کے لئے واپس کر دے تو زکوۃ ادا ہو جائے گی اور مدرسہ کی امداد بھی ہو جائے گی۔ در مختار میں ہے : قدمنا ان الحيلة ان يتصدق على فقير ثم يأمره بفعل هذه الاشياء وهل له ان يخالف امره والظاهر نعم ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله