حیلہ شرعی کے بعد زکوۃ کی رقم مدرسہ کی تعمیر اور تنخواہوں میں صرف کرنا
حیلہ شرعی کے بعد زکوۃ کی رقم مدرسین یا امام کو دینا کیسا؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: (1) ہمارے ہاں رمضان شریف میں جو فطرہ زکوۃ کی رقم جمع ہوتی ہے اس کو ہم لوگ ایک فقیر کے سپر د کر دیتے ہیں ، اس میں سے وہ کچھ لے کر کہہ دیتا ہے کہ آپ لوگ جس مصرف میں چاہیں، جائز طور پر لگا سکتے ہیں، اس رقم سے ہم لوگ مدرسہ کی عمارت بنواتے ہیں اور مدرس کی تنخواہ بھی دیتے ہیں، وہی مدرس امام مسجد بھی ہے اور بچے جو تعلیم پاتے ہیں وہ ہم لوگوں کے ہی ہیں جو اس رقم سے مدد چاہتے ہیں، باہری بچہ ایک بھی نہیں ہے۔ لہذا آپ حضرات اس فعل کو کیا کہتے ہیں؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں ملیل جواب عنایت فرمائیں۔ مہربانی ہوگی ! (۲) نماز جنازہ کے وضو سے پنجوقتہ نماز پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟
الجواب: (1) فعل جائز ہے۔ در مختار میں ہے: "قدمنا ان الحيلة ان يتصدق على فقير ثم يأمره بفعل هذه الاشياء وهل له ان يخالف امره والظاهر نعم (۲) واللہ تعالیٰ اعلم (1) الدر المختار، ج ۳، کتاب الزكوة، باب المصرف، ص ۲۹۳، ۲۹۴ ، دار الكتب العلمية، بيروت (۲) پڑھ سکتے ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم
صح الجواب !
فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله
عوام میں یہ غلط مشہور ہے، مسئلہ یہ ہے کہ جو تیم جنازے کے لئے اس غرض سے کیا ہو کہ وضو میں مشغول ہوگا تو یہ نماز فوت ہو جائے گی اور اس تیم سے اس نماز جنازہ کے سوا کوئی دوسری نماز جائز نہیں، وضو کا یہ کم نہیں ہے۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم
قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی