کمیشن لینے والے سفراء کو زکوۃ و فطرہ دینے کی شرعی حیثیت
سفیر کوز کو ۃ دینے سے ادا ہو گی کہ نہیں؟ حضور قبلہ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ بعد سلام و قدمبوسی عرض یہ ہے کہ بنگال میں ” بڑا کر کے نزدیک ایک جگہ بنام ڈیسر گڑھ ہے، وہاں کے ایک مولوی صاحب جن کا نام جلال الدین ہے، نے چوراہوں پر یہ لکھ کر اعلان کے طور پر آویزاں کر دیا ہے کہ: (۱) کمیشن والے سفراء کوزکوۃ و فطرہ کی رقم دینے سے ادا نہیں ہوتی ۔ حضور مفتی اعظم ہند کا فتویٰ ہے جس کی نقل میرے پاس موجود ہے۔ اب دریافت طلب یہ ہے کہ مولوی صاحب کا یہ اعلان درست ہے؟ حضور مفتی اعظم علیہ الرحمہ نے اس طرح کا فتویٰ صادر فرمایا ہے۔ کمیشن اور حق المحنت میں کوئی فرق ہو تو آگاہ فرمائیں ۔ فقط ! المستفتی محمد سلطان القادری حبیبی مدرسہ خیر یہ نظامیہ، سہسرام، روہتاس
الجواب: زكوة وفطرہ وغیرہ صدقات واجبہ کا مصرف فقیر مسلم ہے، جب تک اسے دے کر مالک نہ بنادیا جائے ، یہ صدقات اصلاً ادا نہ ہوں گے، سفیر ہو خواہ کوئی اور ۔ غیر فقیر کو بے حیلہ شرعی زکوۃ وغیرہ دینا جائز نہیں۔ حیلہ شرعی یہ ہے کہ فقیر مسلم کو زکوۃ دے کر مالک بنادیں پھر اس کی خوشی سے مدرسہ وغیرہ کے لئے لے لیں ۔ در مختار میں ہے: قدمنا ان الحيلة ان يتصدق على فقير ثم يأمره بفعل هذه الاشياء وهل له ان يخالف امره والظاهر نعم (1) ہاں ! مہتمم یا سفیر کوزکوۃ ادا کرنے کا وکیل بنا دے، یہ بھی اختیار ہے پھر مہتم یا سفیر حیلہ مذکورہ کرلیں تو زکوۃ ادا ہو جائے گی ۔ حضور مفتی اعظم ہند کمیشن کو ناجائز فرماتے تھے، ہاں اجرت مقررہ پر کام کرے یا بلا اجرت کرے پھر اسے بطور انعام دیا جائے ، اس میں حرج نہیں ۔ وھو تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۴ / ذی الحجه ۱۴۰۲ھ