بغیر حیلہ شرعی مدارس و مساجد کو زکوۃ و فطرہ دینے سے زکوۃ ادا نہ ہوگی
علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ : ایسے مدارس جن میں غریب و نادار بچہ ایک بھی نہیں، اگر ایک یا دو ہیں بھی تو گاؤں والے ان کی کفالت کرتے ہیں۔ ایسے مدارس میں فطرہ وکوۃ و چرم قربانی کی رقوم دینا اور لے کر مدرسین کی تنخواہ یا دوسری ضروریات میں صرف کرنا کیسا ہے؟ نیز مصارف زکوۃ و چرم قربانی وفطرہ تحریر فرما کر شکریہ کا موقع دیں۔ عین کرم ہوگا المستفتی: محمدعثمان ، مقام و پوسٹ ملنکو اہمشن پور( نیپال)
الجواب: مدارس و مساجد میں زکوۃ و فطرہ کی رقوم بے حیلہ شرعی دینا نا جائز ہے اور مدارس و مساجد کو بے حیلہ شرعی دینے سے زکوۃ و فطرہ ادا نہ ہوں گے۔ حیلہ شرعی یہ ہے کہ کسی فقیر مسلم کو زکوۃ و فطرہ کی رقم دے کر مالک کر دیں پھر اس سے مدرسہ یا مسجد کے لئے اس کی رضا سے لے لیں۔ در مختار میں ہے: ” قد منا ان الحيلة ان يتصدق على فقير ثم يأمره بفعل هذه الاشياء وهل له ان يخالف امره والظاهر نعم (1) چرم قربانی یا اس کی رقم مدرسہ و مسجد اور ہر نیک کام میں صرف ہوسکتی ہے اور مصارف زکوۃ اس آیہ کریمہ میں مذکور ہیں : (1) (۲) "إنما الصَّدَقُتُ لِلْفُقَرَاء - الآية “ (٢) آیت کریمہ کا ترجمہ ( ترجمہ رضویہ ) میں دیکھ لیا جائے ۔ ان مصارف میں مؤلفۃ القلوب بھی الدر المختار، ج۳، کتاب الزكوة، باب المصرف، ص ۲۹۳ ، ۲۹۴ ، دار الكتب العلمية، بيروت سورة التوبة : ٦ مذکور ہوئے جو بعد زمان نبوی ساقط ہو گئے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۶ ررمضان المبارک ۱۴۰۰ھ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی