حربی کافر سے زیادتی وصول کرنے اور زکوۃ کے حیلے کی شرعی حیثیت کا بیان
ٹھگ بازی کا حیلہ ہے تو اس کا جواب بھی عنایت فرمائیں۔ المستفتی : عنایت رضاخاں رضوی مسجد جام جودھپور سور اسٹر
الجواب: (1) لے سکتے ہیں، جائز ہے اور جس جائز مصرف میں چاہیں خرچ کر سکتے ہیں اس لئے کہ وہ زیادتی سود نہیں بلکہ خالص مباح ہے۔ سود کی شرط دونوں جانب مال کا معصوم ہونا ہے اور حربی کا فر کا مال معصوم نہیں۔ ردالمحتار میں ہے: وو و من شرائط الرباعصمة البدلين )) تو حربی کافر سے بے بد عہدی اور بے ذلت نفس کے جو ملے ، جائز ہے اور حربی کی قید سے ذمی کا فرنکل گیا کہ اس سے یہ معاملہ جائز نہیں۔ ہدایہ میں ہے: لا ربا بین المسلم والحربي في دار الحرب لان مالهم مباح في دارهم فبای طریق اخذه المسلم أخذ ما لا مباحاً اذالم يكن فيه غدر (۲) واللہ تعالیٰ اعلم (۲) حیلہ مذکورہ صحیح ہے۔ در مختار میں ہے : قد منا ان الحيلة ان يتصدق على فقير ثم يأمره بفعل هذه الاشياء ،، وهل له ان يخالف امره والظاهر نعم (۳) اور اسے ٹھگ بازی کہنا مسئلہ شرعیہ کی توہین ہے، تو بہ لازم ہے، ٹھگ بازی کسی کا مال زبر دستی لینے کو کہتے ہیں، یہاں فقیر کو مالک بنا کر اس سے کارِ خیر کے لئے رقم زکوۃ واپس لی جاتی ہے اس طرح فرض بھی ادا ہو جاتا ہے اور زکوۃ دینے اور لینے والے کو کار خیر کی طرف رہنمائی اور اس کو انجام دینے پر ثواب ہاتھ آتا ہے۔ حدیث میں ہے: ”الدال على الخير كفاعله‘ (1) بھلائی کا کام بتانے والا کرنے والے کے مثل ہے۔ ایسے نیک کام کو ٹھگ بازی بتانا بد کام اور عقل دشمنی ہے۔ حیلہ مذکورہ کو مسئلہ شرعیہ جان کر ایسا کہا تو شریعت کی توہین کا مرتکب ہوا تو بہ فرض ہے اور تجدید ایمان بھی کرے۔ شرح فقہ اکبر میں ہے: من اهان الشريعة او المسائل التي لا بد منها فقد كفر (۲) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الجواب صحیح۔ واللہ تعالی اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی (۱) جامع الترمذى، ج ۲، ابواب العلم، ص ۴۱ مجلس بركات (۲) شرح الفقه الاکبر ص ۲۱۵