حاجت مند مسلمان کی تفصیل، زکوۃ کی ادائیگی کی شرط اور خائن مدرسہ میں زکوۃ دینا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین : (1) زکوۃ کے مال کا کون کون حقدار ہوتا ہے؟ اور کون کون نہیں حقدار ہوتا ہے؟ اگر زکوۃ کا مال مدرسہ میں دیا جائے تو کون سا مال دینا جائز ہے؟ (۲) جس مدرسہ میں کھانے پینے کا انتظام معقول نہ ہو اس مدرسہ میں دینا کیسا ہے؟ صریح جواب سے نوازنے کی مہربانی فرمائیں! نیازمند : عبد الخالق بھوانی پور، مالده ( بنگال )
الجواب: (1) مصرف زکوۃ ہر مسلمان حاجتمند ہے جسے اپنے مال سے اس مقدار نصاب پر جو اس کی حاجت اصلیہ سے فارغ ہو دسترس میں نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم تفصیل کے لئے فتاویٰ رضویہ جلد چہارم دیکھئے! (۲) زکوۃ کی ادائیگی میں تملیک فقیر مسلم شرط ہے، بغیر اس کے مدرسہ میں دینا جائز نہیں نہ یوں زکوۃ ادا ہوگی بلکہ فقیر کو دے کر اسے مالک بنا دے پھر وہ اپنی خوشی سے مدرسہ کو دے دے۔ جس مدرسہ میں زکوة کی رقم دیانتداری کہ ساتھ صحیح خرچ نہیں کی جاتی ہے اس میں زکو نہ دے کر کسی اور طرح اس کی مدد کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله