ضرورت کے سامان، آٹا چکی، بکریوں اور قرض کی صورت میں زکوۃ کا حکم
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: میرے پاس ایک آٹا چکی ہے جس کی قیمت اس وقت آٹھ ہزار روپیہ ہے، دوگائے ، دو بکری، دو کو ٹل گندم ہے اور ایک ہزار روپیہ نقد موجود ہے اور چھ ہزار روپیہ مجھ پر قرض ہے۔ اب مجھ پر اس کی زکوۃ کس طرح ادا کرنا ہے؟ مطلع فرمایا جاوے، عین نوازش ہوگی !
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: المستفتی: احتقر امجد علی قدیری قصبہ مادھونانڈو تحصیل پور پور ضلع پیلی بھیت چکی پر زکوۃ نہیں۔ یوں ہی بکریوں پر جبکہ چرنے والیاں نہ ہوں اور روپیہ قرض میں مشغول ہے تو اس پر ز کو نہیں یوں ہی چرنے والی بکریوں پر بھی اسی وجہ سے زکوۃ واجب نہ ہوگی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۵ · صفحہ ۴۷–۴۸
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
بارش اور غیر بارش سے ہونے والی گیہوں کی فصل پر زکوۃ (عشر) کا حکم اور مصارف
باب: کتاب الزکوٰۃ
حاجت مند مسلمان کی تفصیل، زکوۃ کی ادائیگی کی شرط اور خائن مدرسہ میں زکوۃ دینا
باب: کتاب الزکوٰۃ
زکوۃ، فطرہ کا حیلہ کر کے مسجد و مدرسہ میں استعمال اور چرم قربانی کے احکام
باب: کتاب الزکوٰۃ
صدقہ فطر کی فرضیت، غریب کا حکم اور نماز میں ثنا پڑھنے کی اہمیت
باب: کتاب الزکوٰۃ
زکوۃ و فطرہ کی رقم اسکول میں خرچ کرنے کے لیے حیلہ شرعی کا حکم
باب: کتاب الزکوٰۃ