زکوۃ و فطرہ کی رقم اسکول میں خرچ کرنے کے لیے حیلہ شرعی کا حکم
واجبات کے رقوم کو اس طرح حیلہ شرعی کرتے ہیں کہ وہ رقوم کسی غریب کو یہ کہہ کر دیا کہ اس میں سے کچھ رکھ کر واپس کر دو تا کہ گاؤں کے دوسرے مصارف میں خرچ کیے جائیں۔ دریافت طلب یہ امر ہے کہ صورت مذکورہ سے حیلہ شرعی کا ثبوت ہوا یا نہیں؟ جان بوجھ کر ان رقوم کو ایسے اسکول میں خرچ کرنے کی اگر کوئی صورت ہو ، مدلل تحریر فرما ئیں ۔ عین کرم ہو گا فقط !
الجواب: المستنتی: اخلاق احمد موہن پور میرا پور ضلع مظفر پور بہار بے حیلہ شرعیہ زکوۃ وفطرہ کی رقوم اسکول وغیرہ میں صرف نہیں ہو سکتی اور حیلہ شرعی سے زکوۃ و فطرہ ادا ہوجانا اپنی جگہ مگر دنیوی تعلیم کے اسکول پر یہ رقوم خرچ کرنا نیکی نہیں لہذا نہ دیا جائے ، چرم قربانی کا بھی یہی حکم ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۶ / رمضان المبارک ۱۴۰۰ھ صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی