صدقات واجبہ کو مدارس و مدرسین پر حیلہ شرعی کے ذریعہ خرچ کرنا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ایک مدرسہ جس کا نام مدرسہ اہل سنت فیض العلوم ہے اور حال یہ ہے کہ شہر کے ہر مدرسہ سے زیادہ غریب ہے، بلڈنگ بھی اس کی اپنی نہیں ہے بلکہ یہ مدرسہ کرایہ کا ہے ، سبب غربت کے یہ مدرسہ باہر کے طالب علم کو کچھ نہیں پاتا اس کی کوئی مستقل آمدنی نہیں ہے صرف رمضان المبارک اور بقر عید میں چرم قربانی سے وصولیابی کر کے صرف کیا جاتا ہے، یعنی مدز کوۃ سے جولوگ امداد فر ماتے ہیں، حیلہ شرعی کر کے صرف کیا جاتا ہے، اس میں جو مدرسین ہیں، ان کے پاس نہ ساڑھے سات تولہ سونا ہے اور نہ ساڑھے باون تولہ چاندی ہے اور نہ وہ کوئی کاروبار کرتے ہیں، بس یہی ہے جولوگ مد زکوۃ سے امداد کرتے ہیں اس کا حیلہ شرعی کر کے لیتے ہیں جیسا کہ عمو مامدارس میں ہوتا ہے بلکہ ان میں سے ایک مدرس آنکھوں سے نابینا بھی ہے ، شہری بچے بھی غریب ہیں، ان سے کوئی فیس نذرانہ نہیں لیا جاتا ہے جو مد زکوۃ سے امداد کرتے ہیں۔ اس کا حیلہ شرعی کر کے لینا کیا درست ہے؟ یہی معلوم کرنا ہے؟ والسلام مع الاکرام احقر قادری ارشاد احمد قادری عفی عنہ مدرسه اہل سنت فیض العلوم، آزاد نگر ، ہلوائی منڈی، نینی تال (یوپی)
الجواب: درست ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۱۵ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۴ھ