زکوۃ کے مصرف، مقروض کو زکوۃ دینا اور جواری و شرابی امام کے متعلق سوالات
ہمیں دینی اعتبار سے کچھ سوالات کے جوابات مطلوب ہیں۔ برائے کرم قرآن وحدیث کی روشنی میں ان کے جوابات ارسال فرما ئیں ۔ آپ کا مدرسہ اہلسنت و جماعت کا مدرسہ ہے اس لئے جلد اور صحیح جواب ملیں گے، ایسی امید ہے۔ (1) زید کا بھانچہ جس پر بینک کا قرض ہے اور وہ مکان رکھتا ہے چوڑیاں بیچتا ہے لیکن گزارہ مشکل سے ہوتا ہے، عنقریب بینک مکان نیلام کرا دے گی اور قرض بھی باقی رہے گا لیکن زید معمول کے مطابق صاحب نصاب ہے ، وہ اپنی زکوۃ کی رقم میں سے اس کا قرض ادا کرنا چاہتا ہے، زید اس کی مدوز کوۃ کی رقم دے کر کر سکتا ہے یا نہیں؟ (۲) زید کی لکڑی کی دوکان ہے، اس کی دوکان میں تین یا چار مسلم مزدور کام کرتے ہیں، زیدان مزدوروں کو ان کی بیوی بچوں کو اپنے طریقے کے مطابق زکوۃ میں سے اچھے لباس کے کپڑے دے سکتا ہے یا نہیں؟ (۳) مسجد کے امام صاحب حافظ جی جن کی آمدنی تنخواہ ، نذرانہ وغیرہ اچھے ہونے کے باوجود وہ جوا،شراب
(1) زید سے زکوۃ کی رقم دے سکتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) دے سکتا ہے مگر اجرت میں شمار نہ کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) انہیں ان سے پر ہیز ضروری۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۸ رذی قعدہ ۱۴۰۳ھ