صدقہ فطر کی مقدار، بلاوجہ شرعی امامت سے روکنے اور قیام جمعہ سے متعلق سوالات
پیچھے نماز نہیں ہوسکتی اور اس طرح مسلمانوں کے اندر جو ایک ہی عقیدے اور ایمان کے لوگ ہیں اور ہمیشہ سے ایک ساتھ رہے اور نمازیں پڑھتے آئے ہیں، کافی انتشار اور پریشانی میں مبتلا ہو گئے ہیں جس کے نتیجہ میں شیگن پور سے ملے ہوئے پرانے موضع اکبر پور میں جس کے درمیان محض ایک نالہ ہے، دو فرلانگ کا بھی فاصلہ نہیں، جہاں کوئی کوچہ و بازار کیا معنی معمولی ایک پر چونی دوکان تک نہیں ، تمام لوگ شیگن پور موضع صبی میں بازار کرتے ہیں، اذان کی آواز بخوبی پہنچتی ہے، دوسرا جمعہ قائم کر کے کچھ لوگ نماز جمعہ پڑھنے لگے جبکہ بہار شریعت کے ہی مطابق شہر وقصبہ کے علاوہ کسی گاؤں میں جمعہ نہیں ہوسکتا اس لئے درخواست ہذا پیش کر کے التجا ہے کہ سوالات ذیل کے جوابات سے آگاہی بخشی جائے تاکہ تعمیل احکامات شرعی میں کوئی کوتاہی نہ ہو اور مسلمان تمام انتشار اور پریشانی سے بچ جائیں ۔ خدا را جواب سے جلد از جلد مطلع فرمائیں۔ (1) صدقۂ فطر از روئے شرع بہار شریعت فی شخص دو کلو پچاس گرام واجب الادا ہے، اگر کسی شخص نے اپنی لاعلمی کی وجہ سے دیگر کتب شرعیہ عقیدہ سنت و جماعت سے پونے دوسیر گندم یا اس کی قیمت بتاد یا تو کیا غلطی سے بتانے والا فاسق ہو جائے گا؟ اور کیا اسے تجدید نکاح اور تجدید ایمان کی ضرورت پڑے گی؟ (۲) اگر کسی پیش امام صحیح العقیدہ سنت و جماعت کے پیچھے نماز پڑھنے سے بلا وجہ شرعی اپنی دنیاوی مصلحتوں کے پیش نظر نماز پڑھنے سے منع کیا جائے اور اس کو محض ذلیل ورسوا کرنے کے لئے دوبارہ نکاح پڑھنے کے لئے حکم دیا جائے از روئے شرع کیسا ہے؟ (۳) ایک ایسی آبادی جس میں کوئی کوچہ و بازار اور حتی کے معمولی پر چونی کی دوکان تک نہیں، ایسے قصبے میں ملی ہوئی محض ایک نالہ بیچ میں ہے اذان کی آواز برابر آتی جاتی ہے جہاں کہ ہمیشہ دور سلطانی سے نماز جمعہ ہوتی رہی ہے ایسے ملے ہوئے پر دے میں دوسری علیحدہ سے نماز جمعہ قائم ہوسکتی ہے؟ جبکہ بہار شریعت کی رو منع استفتی نتی : عبدالحمید خاں (ریٹائرانسپکٹر )، ایجاشیگن پور، پوسٹ شیگن پور ضلع اٹاوہ
(۲۰۱) نصف صاع کا وزن پرانی تول یعنی سو کے سیر سے ایک سو بیشتر روپے اٹھنی بھر اوپر ہے اور نئی تول سے دو کلو پینتالیس گرام ہے۔ اس شخص نے پرانی تول بتائی اور اس میں بھی اٹھنی بھر کم بتایا اس کو تا ہی پر اسے تو بہ ورجوع کا حکم ہے مگر وہ کافر نہ ہو گیا کہ تجدید نکاح کا حکم ہو تو تجدید نکاح کا حکم بیجا ہے، جس سے تو به ضرور اور فی الواقع اگر امام سے اس کا تعلق نہیں تو اسے اس وجہ سے مطعون کرنا گناہ جس سے تو بہ لازم اور امام سے معذرت بھی کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الجواب صحیح ۔ واللہ تعالی اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۹ رصفر المظفر ۱۴۰۲ھ