صدقہ فطر کا شرعی وزن اور سنی صحیح العقیدہ کو فاسق کہنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ: (۱) صدقہ فطر کا وزن کتنا ہے؟ فی آدمی کتنا دینا چاہئے؟ (۲) اگر کسی نے پونے دوسیر وزن فی آدمی بتا یا اور لوگوں سے دلوایا تو کیا غلط بنانے پر وہ فاسق ہو جائے گا ؟ کیا نکاح ٹوٹ جائے گا ؟ پھر سے نکاح کرنے کی ضرورت پڑے گی؟ (۳) ایک سنی انسان صحیح العقیدہ کو فاسق کہا جائے تو کہنے والے کو کیا کہا جائے گا؟ مستفتی: محمد شفاعت اللہ ایم سنگین پور، ناوه سنگین پور ضلع ایادہ
(۱، ۲) دو کلو ۴۵ گرام گیہوں یا اس کے دو نے جو اور پونے دوسیر پرانی کی تول سے اٹھنی بھر اوپر ہے واللہ تعالیٰ اعلم ۔ موجودہ تول سے نہیں تو اس شخص نے بے محل بات کہی اور وزن بھی کم بتا یا، تو بہ کرے مگر اس بات سے اس پر تجدید نکاح لازم نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) بے وجہ شرعی کہا تو گناہ گار ہوا، تو بہ کرے اور وجہ شرعی سے کہا تو اس پر الزام نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۲۹ محرم الحرام ۱۴۰۲ھ