پیر و مرشد اور ان کے اہل خانہ سے بغض و دشمنی رکھنے والے امام کے پیچھے نماز کا حکم
جناب مفتی صاحب ! السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاته بعد سلام کے گزارش کہ مزاج شریف بخیر ہو گا۔ کچھ سوال خدمت میں پیش ہیں ، جواب دینے کی زحمت گورا کریں۔ (1) اگر کوئی پیش امام اپنے پیر ومرشد سے دلی دشمنی رکھتا ہو تو اس پیش امام کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟ (۲) پیش امام اپنے پیر ومرشد کے داماد و سجادہ نشین کو زندہ شیطان بتائے ، ایسی حالت میں سجادہ نشین پیش امام کے پیچھے نماز پڑھے؟
الجواب:(۲۱) بے وجہ شرعی کسی مسلمان سے دشمنی حرام ہے اور اس پر جامع شرائط بیعت سے دشمنی بہت سخت ہولناک ہے اور بے وجہ شرعی کسی مسلمان کو شیطان کہنا بھی حرام ہے، امام مذکور پر اگر یہ جرم شرعاً ثابت ہو تو اسے امام بنانا گناہ ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم(۳) فطرہ کا مستحق فقیر مسلم ہے، امام اگر صاحب نصاب نہیں تو وہ فقیر شرعا ہے۔ اسے دور قم حلال ہے جبکہ اس کا سوال بے ضرورت نہ کرے۔ مسجد میں وہ رقم لگانا جائز نہیں اور اگر مسجد میں لگانا چاہیں توکسی فقیر مسلم کو دے کر مالک بنائیں پھر اس کی خوشی سے مسجد کے لئے مانگ لیں۔ واللہ تعالیٰ اعلمفقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله۲۶ ؍ ربیع الآخر ۱۴۰۴ھ