فطرہ کی رقم مسجد میں لگانے اور امام کو دینے کا شرعی حکم
سوال
(۳) فطرہ کے روپئے مسجد میں لگانا چاہئے؟ وہ روپئے پیش امام اپنے خرچ میں لگا تا ہے۔ المستفتی محمد اقبال خاں ریاض احمد خاں ، امیر نگر
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: (۲۱) بے وجہ شرعی کسی مسلمان سے دشمنی حرام ہے اور اس پر جامع شرائط بیعت سے دشمنی بہت سخت ہولناک ہے اور بے وجہ شرعی کسی مسلمان کو شیطان کہنا بھی حرام ہے، امام مذکور پر اگر یہ جرم شرعاً ثابت ہو تو اسے امام بنانا گناہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) فطرہ کا مستحق فقیر مسلم ہے، امام اگر صاحب نصاب نہیں تو وہ فقیر شرعا ہے۔ اسے دور قم حلال ہے جبکہ اس کا سوال بے ضرورت نہ کرے۔ مسجد میں وہ رقم لگانا جائز نہیں اور اگر مسجد میں لگانا چاہیں توکسی فقیر مسلم کو دے کر مالک بنائیں پھر اس کی خوشی سے مسجد کے لئے مانگ لیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۶ ؍ ربیع الآخر ۱۴۰۴ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۵ · صفحہ ۲۷
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
پیر و مرشد اور ان کے اہل خانہ سے بغض و دشمنی رکھنے والے امام کے پیچھے نماز کا حکم
باب: کتاب الزکوٰۃ
صدقہ فطر کا شرعی وزن اور سنی صحیح العقیدہ کو فاسق کہنے کا حکم
باب: کتاب الزکوٰۃ
صاحب نصاب عالم دین کو قربانی کی کھال بطور ہدیہ دینے کا شرعی حکم
باب: کتاب الزکوٰۃ
عشر میں اخراجات کی وضعی، آبپاشی کے مختلف طریقوں میں عشر کی مقدار، اور تجارتی آلات پر زکوۃ کا حکم
باب: کتاب الزکوٰۃ
زکوۃ و فطرہ سے تربیتی آلات خریدنے اور غیر مقلدین پر صرف کرنے کا حکم
باب: کتاب الزکوٰۃ