صاحب نصاب عالم دین کو قربانی کی کھال بطور ہدیہ دینے کا شرعی حکم
مسئلة- چرم قربانی کوکسی باقی رہنے والی چیز سے بدلنا یاغنی کو دینا جائز ہے! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: صاحب نصاب عالم دین کسی مسجد میں امامت کا کام انجام دیتے ہیں، ایسے امام کو قربانی کی کھال بطور ہدیہ یا اعانت دینا جائز ہے یا ناجائز؟ جناب محمد علی صاحب کا کہنا ہے کہ ایسے امام کو جو صاحب نصاب ہو، قربانی کی کھال دینا اور ایسے امام کو قربانی کی کھال لینا دونوں صورتیں ناجائز ہیں؟ جناب عالم دین صاحب کا کہنا یہ ہے کہ امام مسجد کو خواہ وہ صاحب نصاب ہو یا نہ ہو، دونوں کو قربانی کی کھال بطور ہدیہ واعانت دے سکتے ہیں کیونکہ یہ صدقہ نافلہ ہے واجبہ نہیں۔ اگر واجبہ ہوتا تو کھال اپنے کام میں نہیں
لگا سکتے جیسا کہ قانون شریعت و بہار شریعت و عالمگیری میں لکھا ہے کہ کھال و گوشت کا حکم ایک ہے،جس طرح گوشت کو اپنے اہل وعیال و اہل نصاب کو دے سکتے ہیں اور کھال کو اپنے کام میں لا سکتے ہیں، اسی طرح امام مسجد کو بھی دے سکتے ہیں ؟ جواب جلد مرحمت فرما ہیں ۔ آپ کا کرم ہوگا عنایت ہوگی ! المستفتی: عبدالصمد اشرفی، مقام ڈھالیہ، الجواب: فی الواقع کھال میں اختیار ہے، خواہ اس کی عین کو باقی رکھتے ہوئے اس سے خود فائدہ اٹھا ئیں مثلا اس کا مصلی یا جلد وغیرہ بنالیں یا اس کے بدلے باقی رہنے والی چیز لے لیں۔ مثلا کھال دے کر کتاب وغیرہ جو باقی رہے، خرید لیں اور اس سے فائدہ اٹھا ئیں خواہ اسے یا اس کی قیمت کو صدقہ کر دیں اور دوصدقہ نافلہ ہوگا جس کا حکم وہی ہے کہ غنی کو بھی دے سکتے ہیں، عالم دین کا قول صحیح ہے اور اس کا خلاف غلط ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۱ ذیقعده ۱۳۹۹ھ