لقطہ، زکوۃ کا مصرف، اذانِ خطبہ، خطبہ کا ترجمہ اور سجدہ میں پاؤں کی انگلیوں سے متعلق مسائل
(1) یہ کہ اگر بازار میں کچھ رقم زیور پڑا ہوا ملے تو اس کے واسطے شریعت کا کیا حکم ہے؟ (۲) عید کی قربانی کی رقم تعمیر مدرسہ یا طلباء کے واسطے دے دی جائے تو اس میں کچھ حرج تو نہیں ہے؟ (۳) جمعہ کے خطبہ کی اذان امام کے روبرو پڑھنا جائز ہے یا کہ نہیں؟ (۴) یہ کہ جمعہ کے خطبہ کے درمیان ترجمہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ (۵) سجدہ میں پیر کی انگلیاں زمین سے نہ لگنے پر نماز ہوگی یا نہیں؟ براہ کرم ان مسائل سے آگاہ فرمائیے گا۔ جوابی کا رڈار سال خدمت ہے۔ فقط والسلام ! المستفتی: اشرف علی رضوی، رامپور
(۱) اس چیز کا اعلان کرے اور اس کے مالک کو تلاش کرے ۔ مالک مل جائے تو خیر ورنہ اتنی مدت گزر جانے کے بعد غالب گمان ہو کہ اب وہ اس چیز کو تلاش نہ کرتا ہوگا۔ فقیر مسلم پر صدقہ کر دے۔ وھو تعالی اعلم (۲) فطر ووز کو ۃ کا مستحق فقیر ہے، اسے مدرسہ یا مسجد میں دینا جائز نہیں ، مسجد و مدرسہ کو دینا چاہیں تو فقیر کو دے کر مالک بنا دیں پھر اس کی خوشی سے اس سے لے کر مدرسہ یا مسجد کو دے دیں۔ کھال میں یہ شرط نہیں، اسے بلا حیلہ تعمیر مدرسہ وغیرہ کے لئے دے سکتے ہیں۔ وھو تعالیٰ اعلم (۳) امام کے رو برو خارج مسجد کہی جائے۔ وھو تعالی اعلم (۴) منع ہے کہ خلاف سنت متوارثہ ہے۔ وھو تعالیٰ اعلم (۵) ایک انگلی کا پیسٹ لگانا فرض ہے، بغیر اس کے نماز نہ ہوگی اور اکثر کا لگانا واجب اور کل کالگا ناسنت ہے۔ وھو تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۵ ذی قعد ه۱۳۹۹ھ صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی