صدقات و فطره بعد حیله شرعی مسجد و مدرسہ میں باذن دہندگان لگا سکتے ہیں !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ: (۱) ایک مدرسہ میں زکوۃ کی رقم جمع کی گئی ہے لیکن ابھی تک زکوۃ کا مصرف نہ ہونے کی وجہ سے وہ رقم صرف نہیں کی جاسکی ہے، مصرف ہونے پر صرف کی جائے گی ۔ اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ زکوۃ دہندگان کی زکوۃ ادا ہوگئی یا خرچ ہونے پر ادا ئیگی ہوگی؟ (۲) بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ مسجد کی کچھ دکانیں شکستہ ہیں، مدرسہ کی اس رقم کو تملیک کر کے مسجد کی دکانیں بنوانے میں صرف کر دیا جائے۔ یہ خیال رہے کہ مدرسہ مسجد ہی کی جگہ میں تعمیر ہے لیکن مدرسہ اور مسجد کا آمد وخرج بالکل الگ الگ ہے تو کیا مدرسہ کی مذکورہ بالا رقم سے مسجد کی دکانیں تعمیر کرنا درست ہے؟ (۳) اگر مدرسہ کی رقم مذکورہ بالا صورت سے مسجد کی دکانیں تعمیر کرنے میں صرف کی جاسکتی ہے تو کرایہ کا مستحق کون ہوگا ؟ مدرسہ یا مسجد ؟ یا دونوں؟ (۴) کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ مدرسہ کی یہ رقم مسجد کی دکانیں تعمیر کرنے کے لئے مسجد کو قرض دے دی جائے تو کیا ذمہ داران مدرسہ کے لئے یہ درست ہے کہ مدرسہ کی صدقات واجہ کی رقم مسجد کو قرض دے دیں؟ مفصل تحریر فرما کر ممنون فرمایا جاوے۔ المستفتی: محمد عمر باغ احمد علی خاں بریلی شریف (اتر پردیش)
اگر ان رقوم کو فقیر مسلم کو دے کر مالک بناد یا پھر ان کی خوشی سے مدرسہ کو اُن سے لے کر دے دیا تو زکوۃ ادا ہوگئی اور زکوۃ کی ادائیگی کے لئے فقیر مسلم کو مالک بنادینا شرط ہے جو ہو چکی اور اب وہ رقم مدرسہ کی ہے جس سے مسجد کی دکانیں بنانا مطلق ناجائز ہے خواہ قرض لے کر ہو۔ اور اگر وہ رقم ہنوز فقیر کو نہ دی گئی تو زکوۃ الا ادا نہ ہوئی ، وہ رقم اس کے مالکان کی ہے نہ کہ مسجد یا مدرسہ کی ۔ اس صورت میں اس رقم کو مسجد یا مدرسہ میں بے اجازت مالکان صرف کرنا جائز نہیں اور ادائے زکوۃ کے لئے وہی تملیک فقیر مسلم شرط ہے لہذا زکوۃ دہندہ کی اجازت سے اگر مہتم مدرسہ فقیر کو دے کر مدرسہ کے لئے لے لے تو یہ رقم مدرسہ کی قرار پائے گی۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۸ محرم الحرام ۱۴۰۲ھ