بینک میں جمع کیے گئے روپوں اور زیورات میں زکوۃ کے وجوب کا بیان
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ایک عورت کے شوہر کا انتقال ہو گیا اور اس کے کئی چھوٹی لڑکی اور لڑ کے ہیں، اس نے اپنے پیچھے کچھ روپئے اور زیور وغیرہ چھوڑے۔ اب اگر اس کی بیوی ان روپوں کو بینک میں اپنی بچی اور بچوں کے لئے جمع کروا دیتی ہے اور کسی طرح اپنی گزراوقات کرتی ہے تو آیا ایسی صورت میں اس رو پیر اور زیور پر زکاة واجب ہے یا نہیں؟ اگر ز کا وادی جاتی ہے تو دس یا پندرہ برس میں سب رو پیاز کا نا میں ہی نکل جائے گا۔ پھر ایسی صورت میں زکاۃ دی جائے یا نہیں ؟ شرع کا کیا حکم ہے؟ جواب سے مستفیض فرمائیں۔ المستفتى : قلندر على محلہ صوفی ٹولہ، بریلی شریف
الجواب: رو پیروزیورات اگر اپنی ملک پر باقی رکھتے ہوئے بینک میں جمع کرے گی تو زکاۃ لا محالہ واجب ہوگی ، اس سے چھٹکارا نہیں۔ ہاں اگر اپنی نا بالغ اولاد کو وہ مال دے دے تو اس پر تا وقت بلوغ زکوة واجب نہ ہوگی، بعد بلوغ زکاۃ واجب ہوگی جبکہ ہر بچہ کے حصہ میں نصاب بھر آئے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۷ محرم الحرام ۱۳۹۷ھ