کن چیزوں میں زکوۃ واجب ہے؟
مولانا صاحب ! السلام علیکم ہمیں آپ ایک مسئلہ بتا ئیں اور چٹھی بھیج دیں ہمارے یہاں ۔ (1) جن پیسوں سے کاروبار کرے اسی کی زکوۃ دینی چاہئے یا جس روپیہ کو کاروبار میں خرچ نہیں کرتا ہے اس کی بھی زکوۃ نکالنی چاہئے ؟ ایک مرتبہ جن پیسوں کی زکوۃ ٹھیک سے نکال دیا تو ان پیسوں کی دو بارو ز کوۃ نکالنی چاہئے یا نہیں؟ روپیہ کسی بھی کام میں لایا نہیں گیا ہے، یا پرانے سکے جس کی زکوۃ ایک یا کئی مرتبہ ہی نکل چکی ہے، اس کی بھی نکالنا پڑے گی یا نہیں؟ (۲) دوسرا جو زیور استعمال میں ہوز کو ۃ اس کی نکالنا چاہئے یا جس زیور کی زکوۃ ایک مرتبہ نکل چکی اور اس زیور کو استعمال میں نہیں لایا گیا، زکو اس کی بھی نکالنا چاہئے یا نہیں؟ (۳) کیا جو سامان ڈیلی کام میں آتا ہو ز کوۃ اس کی بھی نکلے گی یا نہیں؟ جیسے گھڑی، ریڈیو،سائیکل، موٹر سائیکل کئی مکان، برتن ، ان کے علاوہ ایک سال کھانے کا غلہ کیپا کو سب سامان کی دینا پڑیگی یانہیں؟ المستفتی: محمد حسین ، وکیل احمد گلہ بھٹڑی، نیپال سنج ، پوسٹ روپائی ڈیبہ ضلع بہرانچ
الجواب: (۱) روپیه جبکه به قدر نصاب ہوا اور حاجت اصلیہ سے فارغ ہو، اس پر زکوۃ واجب ہے، کاروبار میں لگایا ہو یا نہ لگایا ہو، جب تک نصاب بھر رو پی رہے گا، زکوۃ واجب ہوتی رہے گی۔ پرانے سکے اگر سونے یا چاندی کے ہوں تو ان کی بھی زکوۃ واجب ہوگی جبکہ نصاب بھر ہوں یا سونے چاندی یا روپے سے مل کر نصاب ہو جائے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳،۲) زیورا اپنی ملک میں ہو، اس پر زکوۃ واجب ہوگی ، استعمال کرے یا نہ کرے،سامان تجارت پر زکوۃ واجب ہے، جو سامان تجارت کی غرض کے لئے نہ رکھا ہو اس پر زکوۃ واجب نہیں۔ غلہ پر عشر یا نصف عشر واجب ہے اور نصف عشر اس وقت جبکہ سینچائی میں لاگت خرچ ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله