مسجد کے خادم اور خزانچی کو قوم کے چندے سے وظیفہ یا حق المحنت دینے کا شرعی حکم
کرتا چلا آرہا ہے۔ ۱۹۷۹ء میں کمیٹی کا قیام عمل میں آیا تو با تفاق رائے سر پرست مسجد اور ممبران کمیٹی کے اس شخص کو مسجد کا خادم اور خزانچی چنا گیا۔ بعد انتخاب شخص مذکور نے زبر دست محنت اور جد و جہد کرتے ہوئے ممبران کمیٹی کے تعاون سے مسجد کی تعمیر کے لئے قوم سے چندہ کیا اور مسجد کی تعمیر میں بڑی زبردست محنت سے کام کیا اور مسجد کی تعمیر و ترقی کا کام اب بھی کر رہے ہیں۔ شروع میں مسجد ویران تھی تو شخص مذکور نے اذان دیتے اور نماز پڑھنے کی تبلیغ کرتے ہوئے جماعت کو قائم کیا اور عارضی طور پر پیش امام کے فرائض بھی انجام دیتے رہے جو آج بھی پیش امام کی عدم موجودگی میں انجام دیتے ہیں۔ (۲) قوم سے چندہ مہیا ہو جانے پر اس کا باقاعدہ حساب رکھا ہے جس کو کہ مہران اور کمیٹی چیک کرتے ہیں، دستخط کرتے ہیں اور مطمئن ہیں اور شخص مذکور عرصہ پانچ برس سے مسجد کا مؤذن ہے، جماعت کا اہتمام کرتا ہے، منتظم کار کی حیثیت سے کام کر رہا ہے، جمعہ کے دن اور بعد عصر اللہ تعالیٰ اور اس کے نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات بھی سب کو بتلاتا ہے اور نماز کی طرف دھیان دلاتا ہے، اس شخص کی محنت کو مدنظر رکھتے ہوئے اور ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے ہم لوگ ممبران کمیٹی اور قوم کے لوگ حق المحنت وظیفہ کے طور پر ۱۰۰ روپے ماہوار دینا چاہتے ہیں۔ یہ رقم قوم کے چندے سے مسجد ہی سے دی جاوے گی۔ (۳) رقم بطور وظیفہ دینا اور لینا از روئے شرع جائز ہے یا نہیں؟ (۴) کیا اس طرح کے کام اور ذمہ داریوں کے عوض لینے دینے سے ثواب میں کمی واقع ہوگی یا کیا؟ (۵) کیا وظیفہ دینا شخص مذکور کو یا تنخواہ دینے سے نوکر کی صورت پیدا ہوگی ؟ (۶) کیونکہ شخص مذکور کا اپنا خیال ہے کہ اس طرح کا وظیفہ لینا تنخواہ یا نوکری کی ہم شکل صورت نہ بن جائے ، اسے معلوم نہیں کہ اس طرح کا وظیفہ لینا کیسا ہے؟ از راہ کرم شرع متین سے واضح طور پر مطلع فرمائیں تاکہ طرفین مطمئن ہوسکیں ۔ فقط والسلام ! المستفتی : ممبران کمیٹی وقوم کے افراد
الجواب: شخص مذکور کو مذکورہ رقم دینے میں مضایقہ نہیں اور جبکہ وہ عوض لینے کی نیت نہیں رکھتا ہو تو ثواب میں کمی نہ ہوگی پھر ہم محض انعام ہے، تنخواہ نہیں جبکہ شخص مذکور کی جانب سے مطالبہ نہیں بلکہ وہ لینے سے انکار کرتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۹؍ جمادی الآخر ۱۴۰۴ھ