قرضہ پر دی گئی رقوم اور ریٹائرمنٹ کے بعد نقد رقم کی زکوۃ کا حکم
بخدمت جناب محترم مفتی وقت ! السلام علیکم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۸/شعبان المعظم ۱۴۰۷ھ بعد سلام و آداب کے التماس ہے کہ برائے کرم میں چند سوال آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں، سوامید ہے کہ مجھ ناچیز کو اس کا خاطر خواہ جواب دے کر راہ مستقیم سے آگاہ فرمائیں گے۔ (1) اس وقت میرے پاس قریب ہیں ہزار روپیہ کی نقد رقم موجود ہے، یہ رقم میرے پاس چارسال سے ہے جس کی زکوۃ میں حسب شرع ۲۵ / روپیہ فی ہزار ہر سال دیتا آرہا ہوں مگر اس وقت میری نوکری تھی تو مجھ کو یہ رقم دینے میں کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوئی مگر اب میں رٹائر ہو چکا ہوں اور ابھی میری کوئی آمدنی نہیں رہی ہے سو حکم شرع سے واقف فرمائیں، رقم اس طرح سے ہے۔ (۲) گیارہ ہزار روپئے میری دو بچی کے ہیں، ان کی شادی کے لئے کچھ چھوڑے ہیں اس میں سے میں نے ایک عزیز کو دس ہزار روپیہ بطور قرض حسن دیا ہے جس سے مجھ کو کوئی فیض نہیں ہے اس نے ایک موٹر خریدی ہے، اس میں میرا کوئی حصہ نہیں ہے اس کے لئے کیا حکم ہے؟ اس میں سے ایک ہزار میرے پاس ہے۔ (۳) دوہزار میں نے اپنے بھائی کو مکان بنانے میں مدد کی تو اس کو قرض حسن دیے ہیں۔ اس کے لئے کیا حکم ہے؟
الجواب: جتنی رقم قرض میں دی ہے اس کی زکوۃ ابھی واجب نہیں، جب وہ رقم حاصل ہو یا اس میں نصاب کا ایک بٹا پانچ مل جائے تو سالہائے گزشتہ کی زکوۃ ادا کرنالازم ہوگا۔ سالہائے گزشتہ کی زکوۃ دے کر اگر نصاب بھر بچے تو سال موجودہ کی زکوۃ ادا کرے ورنہ اس سال کی زکوۃ ساقط ، باقی رقوم کی زکوۃ اس سال واجب الادا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۹ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۴ھ