بے حیلہ شرعی مصارف کے علاوہ امور میں زکوۃ صرف کرنے سے متعلق سوال
بے حیلہ شرعی مصارف کے علاوہ امور میں زکوۃ صرف کرنے سے ادا نہ ہوگی! کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ: (1) آفتاب محمود پور لوہتہ بنارس جو عرصہ دس سال سے مسجد میں خالص دین متین کی خدمت کو انجام دے رہا ہے، جس میں امیر و غریب سبھی طرح کے بچے زیر تعلیم ہیں اس کی کوئی مستقل آمدنی علاوہ چرم قربانی سے نہیں ہے وہ بھی اتنا کافی نہیں کہ مدرسین کی تنخواہ و دیگر ضروری کام پورے کیے جاسکیں۔ کیا زکوۃ و فطرہ کی رقم سے مدرسین کی تنخواہ یا دیگر ضروری کام کر سکتے ہیں؟ اگر کر سکتے ہیں تو کیا صورت ہوگی ؟ (۲) اس وقت مدرسہ کے لئے ایک مکان مبلغ ساٹھ ہزار روپے میں طے کر لیا گیا ہے، غریب بنکر مزدوروں کی بات نہیں کہ اتنی کثیر رقم کو فوری طور پر چندہ سے پورا کرسکیں، کچھ مالدار حضرات ہیں جن کے پاس زکوۃ کی رقم موجود ہے لیکن کیا زکوۃ کی رقم سے مدرسہ کے لئے زمین یا مکان خرید سکتے ہیں؟ اگر خرید
الجواب:زكوة وفطرہ وعشر ونذر شرعی صدقات واجبہ ہیں، ان کا مستحق فقیر مسلم ہے لہذا ایسے کام میں صرف کرنا کہ تملیک فقیر مسلم نہ ہو درست نہیں مثل تعمیر مدرسه تنخواہ مدرسین مالدارلڑکوں کی خوراک وغیرہ ، مدرسہ کو یہ رقم دینا جائز نہیں اور اسے دینے سے زکوۃ و فطرہ ادانہ ہوں گے۔ البتہ فقیر مسلم کو دے کر مالک بنادیں پھر اس کی خوشی سے ، مدرسہ خواہ کسی کار خیر کے لئے لے لیں تو زکوۃ بھی ادا ہو جائے گی اور کار خیر میں ان رقوم کا لگانا بھی جائز ہوگا اور فقیر مسلم اور اسے کارخیر کا حکم کرنے والے مستحق اجر بھی ہوں گے۔ واللہ تعالیٰ اعلمفقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہصبح الجواب !۱۱ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۴ھمہتمم مدرسہ کوزکوۃ وفطرہ وصدقات واجبہ دے کر وکیل بنادیں، وہ حیلہ شرعی کر کے مدرسہ کے جملہ مصارف میں خرچ کرے اور چرم قربانی کو مدرسہ کے مصارف میں بے حیلہ صرف کر سکتے ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم