صدقہ فطر کا وزن اور غلط مسئلہ بتانے کے شرعی اثرات اور جمعہ کی نماز کا حکم
گزشتہ رمضان المبارک میں یتیم خانہ صفویہ کر نیل سنج گونڈہ (جو کہ ایک سنی ادارہ ہے اور مخدوم صفی صاحب رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ صفی پور شریف ضلع اناؤ سے منسوب ہے اور حضرت مولانا بقاء اللہ شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے خلیفہ حضرت محمد علیم شاہ صاحب رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کا قائم کردہ ہے ) کے اشتہار و دیگر کتابوں میں صدقہ فطر پونے دوسیر لکھا دیکھ کر نماز عید الفطر کے وقت مسجد کے ایک رکن عبد الحمید خاں نے پونے دوسیر فطرہ ادا کرنے کا اعلان کر دیا زید کی موجودگی میں تو صورت مسئولہ میں : (۱) صدقہ فطر کا وزن کتنا ہے؟ فی الواقع آدمی کو کتنا دینا چاہئے؟ (۲) اگر کسی نے پونے دوسیر فی آدمی فطرہ بتایا اور لوگوں سے دلوایا تو غلط بتانے پر فاسق ہو جائے گا؟ اور امام بھی فاسق ہو جائے گا ؟ کیا نکاح ٹوٹ جائے گا؟ اور دونوں کو دوبارہ نکاح کرنے کی ضرورت پڑے گی؟ اور تجدید ایمان لازم ہے؟ اور امام کے پیچھے نماز نہ ہوگی؟ (۳) ایک سنی صحیح العقیدہ کو اگر کوئی فاسق کہے تو کہنے والے کو کیا کہا جائے گا؟ اور غلط الزام لگانے والے کے لئے کیا حکم ہے؟ (۴) ایک قصبہ کی مسجد (جہاں بجلی ، تھانہ ، عدالت، اسپتال اور ضروریات کی مکمل چیزیں نہ ملتی ہوں ) وہاں جمعہ کی نماز دو ہو سکتی ہیں؟ جبکہ جامع مسجد ہی خالی رہتی ہے۔ براہ کرم جواب عنایت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں ۔
الجواب: المستفتی: محمد شفاعت الله شیکن پور، معرفت احمد میاں رضوی ، بانسمنڈی ، کانپور (1) پرانی تول (سو کے سیر سے ) ایک سو پچھتر روپے اٹھنی بھر اور نئی تول سے ۲ کلو ۴۵ گرام یہ نصف صاع کا وزن ہے اور صاع اس کا دونا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) اس نے مسئلہ بتانے میں کوتاہی برتی جس سے تو بہ لازم ہے اور امام نے اس کے بتائے کو مقرر رکھا تو وہ بھی تو بہ کرے اور بے تو بہ اس کی اقتدا امنع مگر یہ کوئی ایسی بات نہیں کہ آدمی اس سے کا فر ٹھہرے اور تجدید ایمان و تجدید نکاح لازم ہو ۔ جو لوگ تجدید ایمان و تجدید نکاح کا حکم دے رہے ہیں، برسر غلط ہیں، انہیں لازم ہے کہ تو بہ کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) بے وجہ شرعی کہے گا تو وہ خود فاسق ٹھہرے گا اور سخت عذاب نار کا مستحق ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) وہ جگہ قصبہ نہ ہوگی جہاں حاکم نہ رہتا ہو اور وہاں ایک جمعہ بھی صحیح نہیں بلکہ ظہر فرض ہے جو جمعہ پڑھنے سے سر سے نہ اترے گا مگر جہاں عوام پہلے سے پڑھتے آئے ہیں وہاں انہیں روکنا مصلحت نہیں اور نیا جمعہ قائم کرنے کی اجازت نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب یکم ربیع الاول ۱۴۰۲ھ