صدقات واجبہ کا صرف جائز امور میں کب جائز ؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: فی الحال پور بندر میں سیلاب آنے کی وجہ سے کافی نقصان ہوا ہے، شہر کی میمن جماعت کے افراد کو بھی تھوڑا بہت نقصان ہوا ہے، ایسا نقصان نہیں ہے کہ سب کچھ تاراج ہو گیا ہو، ان افراد کی امداد کے لئے میمن جماعت کے اراکین نے پور بندر میں جماعت ریلیف کمیٹی کی بنیاد ڈالی ہے اور انہوں نے دیسی پردیسی بسنے والے مالداریخی حضرات کو مدد کے لئے اپیل کی ، نتیجہ یہ ہوا کہ سخی میمن حضرات نے زکوۃ کی بہت بڑی رقم امداد کے لئے ریلیف کمیٹی پر بھیج دی۔ دیوبند کی میمن جماعت میں زکوۃ لینے کے حقدار ہوں، ایسے بہت تھوڑے افراد ہیں، ان لوگوں کو ان کی ضرورت کے مطابق امداد کر کے باقی رقم کا ریلیف کمیٹی نے حیلہ کر والیا اور حیلہ شدہ رقم کا دوطریقوں پر استعمال کیا۔ جو حضرات صاحب نصاب تھے اور ان کو پیسوں کی ضرورت تھی ، ایسے لوگوں کو بخشش دی گئی ۔ رقم میں سے صاحب نصاب حضرات کو ایک ہزار روپے سے پندرہ ہزار روپے تک بغیر سود کے قرض کے طور پر لون دی گئی۔ ریلیف کمیٹی والوں سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ہم نے زکوۃ کی رقم کا حیلہ کروالیا ہے۔ لہذا اب ضرورتمند صاحب نصاب حضرات کو دینے میں کوئی جرم نہیں؟ زید کا کہنا ہے کہ یہ جواب معقول نہیں ہے، مجبوری کے وقت زکوۃ کی رقم کا حیلہ کیا جا سکتا ہے، یہاں ایسی کوئی سخت مجبوری نہیں ہے لہذ از کوۃ کی رقم ان کے حقداروں کو ہی ملنی چاہئے ،صاحب نصاب کو ہرگز نہ دی جائے۔ لہذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ :
الجواب: زکوۃ ادا ہو جائے گی اور مسئولہ صورت میں جائز ہے بشرطیکہ وہ فقراء جن سے ان رقوم کا حیلہ کیا گیا انہوں نے ان رقوم کو لے کر بخوشی ان کاموں کے لئے جماعت کو دیا ہو یا ہر کارِ خیر میں صرف کرنے کی اجازت دی ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۱ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۴ھ