زکوۃ کی رقم کا حیلہ کر کے صاحب نصاب کو بخشش یا قرض دینے کا شرعی حکم
(1) زکوۃ کی باقی شدہ رقم کا حیلہ کروا کے اس رقم کو صاحب نصاب حضرات کو بخشش یا بطور قرض دینے سے جن لوگوں نے زکوۃ کی رقم بھیجی ہے، ان کی زکوۃ ادا ہوگی یا نہیں ؟ (۲) زکوۃ کی باقی شدہ رقم کا حیلہ کروا کے اراکین صاحب نصاب حضرات کو بطور بخشش یا بطور قرض دے سکتے ہیں یا نہیں؟ (۳) صاحب نصاب حضرات حیلہ شدہ زکوۃ کی رقم بطور بخشش یا بطور قرض لے سکتے ہیں یا نہیں؟ (۴) زید کا کہنا درست ہے یا نہیں؟ ان تمام حضرات کے لئے شرعا کیا حکم ہے؟ جلد از جلد مفصل جواب عنایت فرما کر ممنون و مشکور فرمائیں ۔ عین نوازش ہوگی !
الجواب: زکوۃ ادا ہو جائے گی اور مسئولہ صورت میں جائز ہے بشرطیکہ وہ فقراء جن سے ان رقوم کا حیلہ کیا گیا انہوں نے ان رقوم کو لے کر بخوشی ان کاموں کے لئے جماعت کو دیا ہو یا ہر کارِ خیر میں صرف کرنے کی اجازت دی ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم
فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۱ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۴ھ