زکوۃ، فطرہ کا حیلہ کر کے مسجد و مدرسہ میں استعمال اور چرم قربانی کے احکام
(۲) شرعی حیلہ کر کے فطرہ، زکوۃ کو مدرسہ یا مسجد میں لگا سکتے ہیں کہ نہیں؟ اور اس کی خدمت کرنے والوں کو مثلاً مدرسہ کے مدرسین ومؤذن اور مسجد کے امام کو تنخواہ میں دے سکتے ہیں کہ نہیں؟ (۳) چرم قربانی کو بغیر حیلہ کیے ہوئے مسجد کے امام کی خدمت کر سکتے ہیں کہ نہیں ؟ جب امام صاحب نصاب ہے اور مسجد کی طرف سے کوئی تنخواہ نہیں دی جاتی اور اگر تنخواہ بھی دی جاتی ہو تو بھی چرم قربانی دے سکتے ہیں کہ نہیں؟ شریعت کے حکم سے مطلع فرمائیں ! (۴) اگر کوئی گاؤں کا امام ہے اور لوگ اس سے اپنی خدمات لیتے ہوں اور اس کی خدمت نہ کرتے ہوں اور اپنی طاقت کے بل بوتے پر امام صاحب سے اپنی خدمات کراتے ہوں حالانکہ دل خدمت کرنے کو گوارہ نہ کرتا ہولیکن امام صاحب اپنی کمزوری کی بنا پر کچھ نہیں کہہ سکتے۔ شریعت کے حکم سے وہ لوگ جو امام کے دل کو تکلیف پہنچا کر اپنا کام کراتے ہیں ان کو اپنا کام کرانا جائز ہے کہ نہیں؟ اور شریعت کے حکم سے وہ لوگ گناہ گار ہیں کہ نہیں ؟ مطلع فرمائیں!
(۱) وہ بکرا اگر نذر شرعی کا نہ تھا تو حیلہ کی ضرورت نہ تھی اور حیلہ شرعی سے صدقہ واجبہ مثلاً زکوۃ وفطرہ وغیر با غیرمستحق کو حلال ہو جاتے ہیں۔ واللہ تعالی اعلم (۲) لگا سکتے ہیں کمافی الدر المختار ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) دے سکتے ہیں کہ چرم قربانی کا تصدق واجب نہیں کہ بے حیلہ شرعی غیر فقیر کو نہ دے سکیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) جائز نہیں اور وہ لوگ گناہ گار ہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله