بارش اور غیر بارش سے ہونے والی گیہوں کی فصل پر زکوۃ (عشر) کا حکم اور مصارف
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: اس سال ربیع کی فصل خاص کر گیہوں کی فصل بہت بہتر ہے، پانی کی سینچائی زیادہ تر قدرتی ہوئی ہے اور بہت سے لوگوں نے بینک سے بھی قرضے لے کر کھیتوں میں کھاد بھی ڈالی اور سینچائی کی ہے۔ گیہوں کے کتنے کلوگرام پر زکوۃ نکالنا ضروری ہے؟ اور اگر نہیں نکالے گا تو کیا حرج ہے؟ اور جو انسان مسئلہ کوسن کر غور نہ کرے تب اس کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے؟ اور یہ رقم جو ز کوۃ کی نکالی جائے وہ کس جگہ استعمال کی جائے ؟ جواب صاف تحریر فرمائیں! المستفتی : ڈاکٹر نفیس الحسن خاں نزد جامع مسجد، سمنٹ روڈ ، پور نور
الجواب: جن کی اکثر و بیشتر پیداوار بارش کے پانی سے ہوتی ہے ان پر غلہ کا دسواں حصہ نکالنا لازم ہے اور جن کی زیادہ تر پیدا وار مول کے پانی سے ہوتی ہے وہ بیسواں حصہ نکالیں اور یہ حصے یا ان کی رقوم فقراء مسلمین کو دینا ضروری ہے اور جو حکم شرع پر عمل نہ کرے، گناہ گار ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله ۱۸؍ جمادی الاولی ۱۴۰۲ھ