صدقہ فطر کی فرضیت، غریب کا حکم اور نماز میں ثنا پڑھنے کی اہمیت
(1) کہتے ہیں کہ جو صدقہ فطر ادا نہ کرے تو اس کے روزے زیر آسماں معلق رہتے ہیں۔ زید بہت غریب اور مزدور ہے ، اپنے دوسیر کا خرچ ہے، گزارا اس کا ایسے ہوتا ہے کہ مزدوری کر کے گزر بسر کرتا ہے اور صدقہ فطر دینے کے لئے موقع نہیں اور کہتے ہیں کہ جو صدقہ فطر نہیں دیتا ہے تو اس کے روزے زیر آسماں معلق رہتے ہیں تو اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ (۲) زید وضو بنا رہا ہے، ادھر جماعت کھڑی ہو گئی ، زید جماعت میں شامل ہو گیا، اس سے ثنا نہیں پڑھ ملا تو لوگ کہتے ہیں کہ تم نے شانہیں پڑھی نماز نہیں ہوگی کیونکہ شا تو امام کے ساتھ شرکت ہی پر پڑھ لیتے ہیں اور بغیر امام بھی پڑھتے ہیں۔ اور آپ کے یہاں حقیقت نماز ہوتو لکھ دیجئے ۔ فقط والسلام !
الجواب: (1) صدقۂ فطر مالک نصاب پر اپنی اور اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے واجب ہے۔ یہ صیح ہے کہ روزہ معلق رہتا ہے جب تک کہ یہ صدقہ نہ دیا جائے ، زیدا گر مالک نصاب نہیں تو اس پر صدقہ فطر واجب نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم ! (۲) ثنا پڑھنا مسنون ہے، بغیر اس کے نماز ہو جائے گی مگر ترک کی عادت ڈالنا گناہ اور ثنا اس وقت تک پڑھ سکتا ہے جب تک کہ امام نے قرآت شروع نہ کی ہو، جب پڑھنا شروع کر دیا تو اب نہیں پڑھ سکتا، جس کو ثنا کی فرصت امام کے ساتھ نہ ملے وہ اپنی چھوٹی ہوئی رکعت میں ثنا پڑھے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۵ رشوال المکرم ۱۳۹۵ھ