سرکاری ملازم کے پاس موجود سونے، چاندی اور جی پی ایف کی رقم پر زکوۃ کے نصاب کا حکم
جناب خدمت عالی میں ذیل سوال پیش خدمت ہے، براہ کرم جواب عنایت فرما کر مشکور فرمائیں۔ زید ایک سرکاری ملازم ہے۔ اس کے پاس رہائش کا مکان وارثانہ کے علاوہ زیورات طلاء ۲۶۸ گرام و چاندی ۳۰۰ گرام وزن کے ہیں، ساتھ ہی ملازم ہونے کے اس کے جی پی ایف (بچت کھاتے ) میں قریب ۲۰ ہزار روپیہ جمع ہے۔ تو کیا ... (۱) زید صاحب نصاب ہے؟ (۲) اگر ہاں تو کتنے نصاب کا مالک ہے؟ (۳) سالانہ زکوۃ کتنی ادا کرنی ہوگی ؟ المستفتی :سمیع اللہ خاں (ریو مینوانسپکٹر ) اسلام پورہ جو ہٹ ضلع جھائیوں (ایم پی )
الجواب: ہاں زید صاحب نصاب ہے اور اس کے پاس سونے کی تین نصابیں ہیں کہ سونے کا نصاب ساڑھے سات تولہ سونا ہے اور چاندی بھی سونے کے ساتھ ضم ہو کر نصاب بھر ہو جاتی ہیں پھر ایسی صورت میں جبکہ سونا بقدر نصاب ہے بلکہ اس سے زائد اور چاندی نصاب بھر نہیں کہ وہ تقریباً ۲۸ تولہ ہے اور چاندی کا نصاب ساڑھے باون تولہ ہے تو یہ کل سونا ہی سمجھا جائے گا یعنی اتنی چاندی کا جتنا سونا بنے اسے ۲۶۸ گرام سونے میں شامل مانیں گے پھر کل سونے کی زکوۃ نکالیں گے اور زکوۃ میں کل عین اور رقم کا چالیسواں حصہ نکالنا ضروری ہے جبکہ حاجت اصلیہ اور دین سے فاضل ہو۔ ولو بلغ باحدهما نصابا دون الآخر تعين ما يبلغ به کذافی الدر المختار (۱) نیز ردالمحتار میں ہے: قوله (تعین التقویم به) ای اذا كان يبلغ به نصابا لما في النهر عن الفتح يتعين ما يبلغ نصابا دون مالا يبلغ فان بلغ بكل منهما واحدهما اروج (1) الدر المختار، کتاب الزكوة ، ج ۳، ص ۲۲۹ ، دار الكتب العلمية، بيروت تعين التقويم بالاروج ا ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۱ / شعبان المعظم ۰۸