سونا چاندی کی زکوۃ کی مقدار، بینک سے سودی قرض لے کر تجارت اور کمپنی کے شیئرز کا حکم
(۱) ۵۲ تولہ سونا اور ۱۲۵ تولہ چاندی پر زکوۃ کتنی دی جائے گی؟ سونا اور چاندی کا الگ الگ حساب گرام میں لکھیں۔ (۲) بینک میں اپنی رقم جمع ہے اس رقم پر مزید قرض لے جس پر بینک کے اخراجات ( یا سود ) وصول کرے تو کیا اس طرح قرض لے کر کوئی تجارت کرنا جائز ہے؟ جائز و نا جائز دونوں صورتوں میں کتنی فیصد رقم بینک سے لے سکتے ہیں؟ (۳) کمپنی (شرکتۃ ) میں شیئر (Share) خرید نا کیسا ہے؟ جبکہ اس کمپنی کے خود کے سرمایہ کے علاوہ مختلف لوگوں (بلا امتیاز مذہب وملت) کے شیئر کی رقم سے بھی سرمایہ بنتا ہے۔ آیا اس کمپنی میں بطور شیئر ہولڈر شرکت کرنا کیسا ہے؟ جبکہ دیگر شیئر ہولڈرز کی رقم جائز آمدنی کی ہے یا نہیں؟ یا کمپنی کا خود کا سرمایہ کیسا ہے؟ وہ معلوم کرناممکن نہیں پھر اس کمپنی کا منافع بصورت ڈوڈنڈ مالکان شیئر میں تقسیم ہوتا ہے تو یہ منافع لینا جائز ہے؟ یا پھر شیئر ز کے دام گھٹتے بڑھتے رہتے ہیں جس کا دارو مدار کمپنی کے نفع نقصان پر ہے اور یہ بغرض آمدنی و منافع خرید و فروخت ہوتے رہتے ہیں تو یہ کاغذی مشن کے شہر میں خرید و فروخت کیسی ہے؟
الجواب: (1) مقدار زکوۃ درج ذیل ہے۔ سونا ایک تولہ تین ماشہ پانچ رتی چاندی تین تولہ ایک ماشہ چاررتی واللہ تعالیٰ اعلم (۲) بلا ضرورت شرعیہ کا فرحزبی کو نفع پہنچانا حرام تو بے ضرورت ایسا قرض لینا جائز نہیں مگر جبکہ مسلم کو نفع کثیر ہو اور کا فر کو تھوڑ انفع ہو تو اپنے نفع کے لئے اجازت ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۱۶ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۱ھ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی