زکوۃ کی رقم سے حیلہ شرعی کے ذریعہ جماعت خانہ کی تعمیر کا حکم
سوال
زکوۃ کی رقم سے جماعت خانہ بنا سکتے ہیں یا نہیں؟ علمائے دین کیا فرماتے ہیں اس بارے میں کہ: زکوۃ کی رقم سے جماعت خانہ بنا سکتے ہیں یا نہیں؟ جماعت خانہ کا مقصد برادری کے لوگوں کو شادی اور بیاہ میں سہولت دینا ہے۔ اگر شادی والا صاحب مال ہو تو کرایہ بھی وصول کیا جائے ورنہ نہیں۔
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: بنا سکتے ہیں مگر حیلہ شرعی سے۔ حیلہ شرعی یہ ہے کہ زکوۃ کی رقم کسی فقیر کو دے کر اس کی خوشی سے اس کام کے لئے اسی سے لیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۵ · صفحہ ۹۹
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
زکوۃ فطرہ و قربانی کس پر واجب؟ نصاب کی قسمیں!
باب: کتاب الزکوٰۃ
سید کوزکوۃ وصدقات واجبہ وغیرہ دینے سے ادا نہ ہوں گے!
باب: کتاب الزکوٰۃ
سونا چاندی کی زکوۃ کی مقدار، بینک سے سودی قرض لے کر تجارت اور کمپنی کے شیئرز کا حکم
باب: کتاب الزکوٰۃ
مال غیر کی زکوۃ بلا اجازت و توکیل ادا کرنے سے زکوۃ ادا ہوگی یا نہیں؟
باب: کتاب الزکوٰۃ
سادات کے لئے خمس کا حکم اور حضور علیہ السلام کے حصہ خمس کے سقوط کا بیان
باب: کتاب الزکوٰۃ