سید کوزکوۃ وصدقات واجبہ وغیرہ دینے سے ادا نہ ہوں گے!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسائل میں کہ: (۱) سید خاندانی ہو چاہے امیر ہو یا غریب مگر ہے سید تو کیا سید کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ زکوۃ وفطرہ کا مال لے؟ اور کیا سید کو دسواں چالیسواں کا کھانا جائز ہے؟ اور اسی طرح ہر امیر کے لئے کیا جائز ہے کہ وہ دسواں چالیسواں کا کھانا کھائے ؟ دسواں چالیسواں زکوۃ فطرہ کا صحیح مستحق کون ہے؟ (۲) کسی شرابی کے گھر نیاز کا کھانا ہے اور سب کو معلوم ہے کہ اس کی تجارت بھی صرف شراب ہے پھر ایسے کے گھر نیاز کا کھانا کھانے کے لئے جانا چاہئے یا نہیں؟ (۳) بازار میں کوئی مر گیا مگر کس کو یہ پتہ نہیں تھا کہ یہ مسلمان ہے پھر اس کو پولیس کے ہاتھوں مرگھٹ یا کسی اور دوسری جگہ دفن کر دیا گیا، بعد میں معلوم ہوا کہ وہ مرنے والا مسلمان تھا تو اب کیا کیا جائے؟ بینوا توجروا امستفتی: حافظ عبدالغفور رضوی نگینه مسجد وارڈ نمبر ۴ ضلع ریوت محل ، مہاراشٹر
الجواب: (۱) سید کو زکوۃ وفطرہ لینا حلال نہیں اور سید کو دینے سے زکوۃ وفطرہ اور کوئی صدقہ واجبہ ادا نہ ہوگا اور دسویں چالیسویں کا کھانا سید کو دے سکتے ہیں مگر کھانا اگر عام آدمی کا ہو توغنی کو نہ دینا چاہئے ، سید ہو خواہ کوئی اور ۔ اور بزرگان دین کی نیاز ہو تو تبرک ہے، غنی و فقیر سب کھا ئیں ۔ زکوۃ وفطرہ کا مستحق فقیر و مسکین غیر سید ہے جو نہ دینے والے کی اولاد ہو نہ دینے والا اس کی اولاد میں ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) کھانا جائز ہے مگر اس کے یہاں جانا اور اس سے میل جول حرام ہے تو اس کے یہاں جانے کی اجازت ہی نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) تین دن سے زائد اگر دفن ہوئے ہو گئے ہوں تو دعائے مغفرت پر اقتصار کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۳ جمادی الآخره ۱۴۰۴ھ