زکوۃ فطرہ و قربانی کس پر واجب؟ نصاب کی قسمیں!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ: (۱) زید ایک مدرسہ اسلامیہ میں مدرس ہیں، انہوں نے عید الفطر کے موقع پر یہ اعلان کر دیا کہ ہر شخص جو اچھی طرح خوشحالی انداز میں کھا پی لیتا ہے اور نہ کسی قسم کا کوئی مقروض ہے تو اس پر صدقہ فطر واجب ہے؟ وہ ادا کرے لیکن اس آبادی کے امام نے بعد میں یہ اعلان کیا کہ جس کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونا ضرورت اصلیہ سے باہر ہو تو واجب ہے، کم اشیاء ہیں تو واجب نہیں ۔ وہ فطرہ اور قربانی نہیں دے سکتا ہے۔ جواب عنایت فرمائیں! (۲) زید کہتا ہے کہ ضرورت اصلیہ کے بعد بھی جو روپیہ وغیرہ بچے ، چاہے وہ کثیر ہو یا قلیل؟ بچے ہوئے مال پر زکوۃ فرض ہے، وہ اتنے مال کی زکوۃ دے۔ یہاں اختلاف کا اندیشہ ہے، جواب عجلت سے دے کر شکریہ کا موقع دیں۔ نیز نصاب کی قسمیں وغیرہ ہیں تو تفصیل سے تحریر کر دیں ۔ فقط والسلام! ستفتی : سید اقبال علی، بدھونہ، اٹاوہ
الجواب: ز کو 7 وفطر و قربانی اس پر واجب ہیں جو سونے یا چاندی کے نصاب یا اس کی قیمت کا ( جو حوائج اصلیہ و دین سے فاضل ہو ) مالک ہو۔ مراقی الفلاح میں ہے: فرضت علی حر مسلم مکلف مالك لنصاب من نقد ولو تبرا او حليا او آنية او مایساوی قیمته من عروض تجارة فارغ عن الدين وعن حاجته الاصلية (1) در مختار میں ہے: و سببه ای سبب افتراضها ملک نصاب حولی تام فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد و فارغ عن حاجة الاصلية نامولوتقديرا-ملخصاً (٢) مگر ز کوۃ سے فطرہ اس امر میں مختلف ہے کہ اس میں تجارت کے ذریعہ نصاب نامی ہونا شرط نہیں۔ لہذا فطرہ نصاب بھر اسباب پر بھی واجب ہوگا جبکہ حوائج اصلیہ سے فارغ ہو، اگر چہ وہ سامان تجارت نہ ہو۔ زید صحیح کہتا ہے۔ اسی کے باب صدقۃ الفطر میں ہے: تجب على كل حر مسلم ولو صغيرا مجنونا ذى نصاب فاضل عن حاجته الاصلية کدینه و حوائج عياله وان لم ينم كما مر وبهذا النصاب تحرم الصدقة كما مر وتجب الاضحية ونفقة المحارم على الراجح-ملخصاً (۳) اور نصاب تین قسم ہے۔ ایک وہ جس میں نامی ہونے کی شرط ہے اور اس سے وجوب زکوۃ اور تمام احکام متعلقہ بالمال النامی متعلق ہوتے ہیں دوسرا وہ جس سے چارا حکام واجب ہوتے ہیں اس کے مالک پر صدقہ واجبہ حرام ہونا قربانی کا واجب ہونا ، صدقہ فطر ونفقہ اقارب محتاجین کا واجب ہونا اور اس میں تجارت کے ذریعہ نامی ہونا اور سال گزرنا شرط نہیں اور تیسرا وہ ہے جس سے سوال حرام ہو جاتا ہے اور وہ بعض کے نزدیک یہ ہے کہ آدمی کے پاس دن بھر کی روزی ہو اور بعض نے کہا کہ پچاس درہم کا مالک ہو۔ طحطاوی میں ہے: اعلم ان النصب ثلثة نصاب يشترط فيه النماء و تتعلق به الزكاة وسائر الاحكام المتعلقة بالمال النامى و نصاب تجب به احكام اربعة حرمة الصدقة ووجوب الاضحية وصدقة الفطر و نفقة الاقارب ولا يشترط فيه النمو بالتجارة ولا حولان الحول ونصاب تثبت به حرمة السوال وهو ما اذا كان عنده قوة يومه عند بعض وقال بعضهم هو ان یملک خمسین در هماذكره العلامة نوح سونے یا چاندی کے نصاب یا اس کی قیمت کا مالک نہ ہو نہ اس کے پاس نصاب بھر اسباب کی تجارت ہو نہ چرائی کے جانوروں کا نصاب ہو، اس پر زکوۃ واجب نہیں اور یہیں سے اقسام نصاب کی طرف اشارہ ہو گیا۔واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۸ رذوالحجہ ۱۴۰۰ھ (1) حاشیة الطحطاوي علی المراقی، باب صدقة الفطر، ص ۷۲۳، دار الكتب العلمية، بيروت